رپورٹ.محمد عارف راجپوت
ٹھاروشاہ جنکشن زبوں حالی کا شکار
تاریخی ریلوے اسٹیشن حکومتی غفلت، قبضہ مافیا اور چوروں کے رحم و کرم پربرطانوی دورِ حکومت میں 1930 میں قائم ہونے والا ٹھاروشاہ جنکشن آج حکومتی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب یہ تاریخی ریلوے جنکشن محراب پور سے ٹنڈو آدم جنکشن تک ریلوے آمد و رفت کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، جہاں روزانہ مسافروں اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت جاری رہتی تھی، مگر آج یہ عظیم ورثہ ویرانی، تباہ حالی اور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں ٹھاروشاہ جنکشن کو بند کر دیا گیا، جس کے بعد اس ریلوے اسٹیشن کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔ ریلوے ٹریک غیر فعال ہونے کے بعد نامعلوم چوروں نے ریل کی پٹریاں تک اکھاڑ کر چوری کر لیں، جبکہ قبضہ مافیا نے ریلوے کی قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضے جما لیے۔ اسٹیشن کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جبکہ اطراف میں جھاڑیاں اور ویرانی چھائی ہوئی ہے۔
شہریوں، سماجی حلقوں اور بزرگ افراد کا کہنا ہے کہ ٹھاروشاہ جنکشن صرف ایک ریلوے اسٹیشن نہیں بلکہ علاقے کی تاریخی شناخت تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس ریلوے لائن کو دوبارہ بحال کیا جائے تو نہ صرف عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
عوامی حلقوں نے حکومتِ پاکستان اور ریلوے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھاروشاہ جنکشن کی تاریخی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اس کی بحالی، ریلوے زمینوں سے قبضے ختم کرانے اور ریلوے ٹریک کی دوبارہ تعمیر کے اقدامات کیے جائیں

