لاہور: معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف آن لائن ہراسگی کے کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ٹھوس شواہد فراہم کر دیے ہیں۔
اداکارہ مومنہ اقبال اپنے وکیل اور اہل خانہ کے ہمراہ این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے تفتیشی حکام کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ذرائع کے مطابق، اداکارہ نے ایم پی اے کی جانب سے بھیجے گئے دھمکی آمیز پیغامات، سوشل میڈیا کے ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیے ہیں۔
پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کے درمیان 2022 سے واقفیت تھی اور رکن اسمبلی ان سے تیسری شادی کے خواہشمند تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ایم پی اے نے اداکارہ کو باقاعدہ رشتہ بھی بھیجا تھا، تاہم مومنہ اقبال کو جب ان کی پہلے سے موجود شادیوں کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے تعلقات منقطع کر لیے۔
وکیل کے مطابق، مومنہ اقبال کی جانب سے انکار اور کہیں اور رشتہ طے پانے کے بعد ملزم نے انہیں ہراساں کرنا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ وکیل نے اس معاملے پر فوری ایکشن لینے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو یقینی بنانے پر وزیراعلیٰ پنجاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
این سی سی آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے دونوں فریقین کو آج طلب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اداکارہ تو دفتر میں پیش ہو گئیں، تاہم نوٹس ملنے کے باوجود ایم پی اے ثاقب چدھڑ مقررہ وقت تک تفتیشی ادارے کے سامنے پیش نہ ہوئے۔
این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تمام تر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ادارے کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا لگائے گئے الزامات میرٹ پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ اگر تحقیقات میں ہراسگی یا سائبر بُلنگ کے شواہد ثابت ہوئے تو معاملہ باقاعدہ ایف آئی آر کے اندراج کے ساتھ پولیس کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی تھی کہ انہیں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے۔ اداکارہ کے مطابق، اس سے قبل ان کی شکایات پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی، تاہم اب حکام کی جانب سے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

