لاہور / کراچی: پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں ‘گرین ریولیوشن’ (سبز انقلاب) لانے والے معروف برانڈ ‘ایم جی’ (MG) نے ایک بار پھر جدت اور سستی الیکٹرک سواری کا خواب سچ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی حالیہ اطلاعات کے مطابق، ایم جی پاکستان اپنی مقبول ترین الیکٹرک ہیچ بیک کا نیا ویرینٹ MG4 EV Urban لانچ کرنے والا ہے، جو شہر میں رہنے والوں کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگا۔
ایم جی کی یہ نئی پیشکش محض ایک گاڑی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور بچت کا حسین امتزاج ہے۔ مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق، یہ ماڈل ان صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو مہنگے پیٹرول سے جان چھڑا کر ایک اسٹائلش اور سستی الیکٹرک کار کے خواہش مند ہیں۔
فرنٹ وہیل ڈرائیو (FWD): جہاں موجودہ MG4 پرفارمنس اور ریئر وہیل ڈرائیو پر مرکوز تھی، وہیں ‘اربن’ ویرینٹ کو فرنٹ وہیل ڈرائیو کے ساتھ ‘سٹی ڈرائیونگ’ کے لیے آسان بنایا گیا ہے۔
بیٹری اور رینج: لیک شدہ خبروں کے مطابق اس میں 43kWh کا بیٹری پیک دیا جائے گا جو ایک بار چارج کرنے پر 316 کلومیٹر (WLTP رینج) تک کا سفر طے کر سکے گا۔
پاور اور پرفارمنس: یہ الیکٹرک ہیچ بیک 148 ہارس پاور اور 250Nm ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو شہری ٹریفک میں بہترین گرفت فراہم کرتی ہے۔
قیمت اور بکنگ: کیا یہ گیم چینجر ثابت ہوگی؟
سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی تفصیلات نے خریداروں میں تجسس کی لہر دوڑا دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایم جی اس گاڑی کو پاکستان میں انتہائی مسابقتی قیمت پر متعارف کروانے جا رہا ہے:
توقعاتی قیمت: تقریباً 69.99 لاکھ روپے۔
بکنگ اماؤنٹ: تقریباً 12 لاکھ روپے۔
اگرچہ یہ قیمتیں اور فیچرز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، تاہم ایم جی پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ کمپنی اس ویرینٹ کو ایک ‘افورڈ ایبل’ (سستا) آپشن بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں تک رسائی عام ہو سکے۔
نئی MG4 EV Urban کا مقصد ملک میں الیکٹرک موبلٹی کو فروغ دینا ہے۔ چھوٹی بیٹری اور بہتر ٹیکنالوجی کی بدولت اس کی ملکیت کے اخراجات کم ہوں گے، جو اسے پاکستان کے متوسط اور اپر مڈل کلاس طبقے کے لیے ایک پرکشش پیکج بناتا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایم جی اس قیمت پر گاڑی لانچ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں ایک بڑا انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں ایم جی کے باضابطہ نوٹیفکیشن پر لگی ہوئی ہیں۔

