Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایران جنگ میں امریکا کو بے تحاشہ نقصان، لڑاکا طیاروں سمیت 42 طیارے اور MQ-9 ریپر ڈرون کھو دیے، کانگریشنل ریسرچ سروس رپورٹ

      نیسلے کے لیے نئی مشکل: شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ میں زہریلے مادے کا انکشاف

      کراچی میں 82 منزلہ 941 فٹ بلند ” برج قائد“ تعمیر کرنیکا فیصلہ

      مودی کا ‘مدر آف آل ڈیلز’ کا اعلان، نیدرلینڈز اور ٹاٹا کے مابین تاریخی سیمی کنڈکٹر معاہدہ

      الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا میں نیا دھماکہ: ایم جی کی ‘MG4 EV Urban’ پاکستان میں قدم رکھنے کو تیار، قیمت نے سب کو حیران کر دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پاکستان میں خوراک: قوانین موجود، مگر نفاذ کمزور

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر : ڈاکٹرداؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ نے فوڈ سیفٹی، فوڈ لیبلنگ کے معیارات، اور صارفین کے اس تصور کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر عالمی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں اور حقیقت میں انہیں کیا فروخت کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ یہاں خوراک کا تعلق صرف صحت سے نہیں بلکہ مذہب، اخلاقیات اور عوامی اعتماد سے بھی ہے۔
    پاکستان میں غذائی قوانین کی کمی نہیں۔ ملک میں پہلے ہی متعدد قوانین موجود ہیں، جن میں پیور فوڈ آرڈیننس 1960، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) ایکٹ 1996، اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کیے گئے صوبائی فوڈ سیفٹی نظام شامل ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) نے ملک میں نسبتاً فعال ریگولیٹری نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت فیکٹریوں کا معائنہ، کاروباروں کو سیل کرنا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ممکن ہے۔ اس کے باوجود خوراک میں ملاوٹ ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
    پاکستان بھر میں حکام بارہا مصنوعی دودھ بنانے والی فیکٹریوں، کیمیکلز سے پکائے گئے پھلوں، جعلی مشروبات، ری سائیکل شدہ کوکنگ آئل، غیر حفظانِ صحت گوشت، اور میعاد ختم شدہ مصنوعات کو نئے لیبل لگا کر فروخت کیے جانے کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف قانون سازی کی کمی نہیں بلکہ کمزور نفاذ، بکھرے ہوئے ضابطے، بدعنوانی، اور مستقل نگرانی کے فقدان کا بھی ہے۔
    ایک بڑا چیلنج پاکستان کی غیر رسمی غذائی معیشت ہے۔ سڑک کنارے ہزاروں دکاندار، قصابوں کی دکانیں، بیکریاں، اور چھوٹے فوڈ کاروبار مناسب نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب معاشی مشکلات عوام کو سستی مگر غیر معیاری اور غیر محفوظ اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ مختلف صوبوں میں فوڈ ریگولیشن کے الگ الگ نظام قومی سطح پر ہم آہنگی کو کمزور کرتے ہیں۔
    پاکستان چونکہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، اس لیے حلال خوراک کی صداقت یہاں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم حلال سرٹیفیکیشن اور فوڈ ٹریس ایبلٹی کے نظام اب بھی مکمل طور پر یکساں اور مؤثر نہیں۔ اس کا اثر نہ صرف مقامی صارفین کے اعتماد پر پڑتا ہے بلکہ عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستان کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔
    غیر محفوظ خوراک کے صحت پر اثرات نہایت سنگین ہیں۔ یہ معدے کے انفیکشن، ہیپاٹائٹس، کیڑے مار ادویات کے زہریلے اثرات، گردوں کی بیماریوں، اور سرطان پیدا کرنے والے مادوں کے طویل استعمال جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوتا ہے، جسے معیاری خوراک اور بہتر طبی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔
    اگرچہ کچھ مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، عوامی آگاہی مہمات، معائنے، اور ڈیجیٹل شکایتی نظام نے صورتحال میں کسی حد تک بہتری پیدا کی ہے، مگر اب بھی قانون کے نفاذ میں سستی اور قانونی کارروائیوں میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔
    پاکستان کو فوری طور پر تین اہم اصلاحات کی ضرورت ہے: بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک متحد قومی فوڈ سیفٹی فریم ورک، بدعنوانی سے پاک اور مضبوط نفاذی ادارے، اور خوراک کے معیار و صارفین کے حقوق کے حوالے سے وسیع عوامی آگاہی۔
    فوڈ سیفٹی اب صرف صحت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ حکمرانی، معاشی دیانت داری، اور قومی فلاح و بہبود کا معاملہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے پاس اپنے عوام کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ قوانین صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک کے ہر باورچی خانے، ریستوران، اور بازار تک عملی طور پر پہنچ سکیں۔

    Related Posts

    مومنہ اقبال ہراسگی کیس: اداکارہ نے این سی سی آئی اے میں اہم ثبوت پیش کر دیے، ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی طلبی

    تہران :محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات ،باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام نیشنل سکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026 کا انعقاد

    مقبول خبریں

    مومنہ اقبال ہراسگی کیس: اداکارہ نے این سی سی آئی اے میں اہم ثبوت پیش کر دیے، ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی طلبی

    تہران :محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات ،باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    پاکستان میں خوراک: قوانین موجود، مگر نفاذ کمزور

    منڈی بہاالدین کے علاقے گوجرہ میں انوکھی شرط، دوڑ لگانےپر 3 افراد کےخلاف مقدمہ درج

    بھارت نے سلال ڈیم سے دریائے چناب میں پھر پانی چھوڑ دیا، الرٹ جاری

    بلاگ

    شعبہ تعلیم کی پرائیویٹائزیشن، لیکن کیوں

    لیسکو کا بڑا آپریشن، کرپشن پر خاموشی نے سوال اٹھا دیے! ڈبل سورس کنکشن ختم، مگر لگوانے والے افسران محفوظ؟

    پنجاب پولیس طاقت کا محور تبدیل، لاعلم نوسربازکا اہم پولیس افسر کو حکم الٹا پڑ گیا،کوکین کوئین کیس میں بڑے نام ،پولیس افسران معطل

    جب خطہ جل رہا ہو، پاکستان کن موضوعات میں الجھا ہے؟

    ”کتوں کو بھی انصاف چاہیے “ میاں حبیب کا کالم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.