تحریر : ڈاکٹرداؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ نے فوڈ سیفٹی، فوڈ لیبلنگ کے معیارات، اور صارفین کے اس تصور کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر عالمی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں اور حقیقت میں انہیں کیا فروخت کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ یہاں خوراک کا تعلق صرف صحت سے نہیں بلکہ مذہب، اخلاقیات اور عوامی اعتماد سے بھی ہے۔
پاکستان میں غذائی قوانین کی کمی نہیں۔ ملک میں پہلے ہی متعدد قوانین موجود ہیں، جن میں پیور فوڈ آرڈیننس 1960، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) ایکٹ 1996، اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کیے گئے صوبائی فوڈ سیفٹی نظام شامل ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) نے ملک میں نسبتاً فعال ریگولیٹری نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت فیکٹریوں کا معائنہ، کاروباروں کو سیل کرنا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ممکن ہے۔ اس کے باوجود خوراک میں ملاوٹ ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
پاکستان بھر میں حکام بارہا مصنوعی دودھ بنانے والی فیکٹریوں، کیمیکلز سے پکائے گئے پھلوں، جعلی مشروبات، ری سائیکل شدہ کوکنگ آئل، غیر حفظانِ صحت گوشت، اور میعاد ختم شدہ مصنوعات کو نئے لیبل لگا کر فروخت کیے جانے کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف قانون سازی کی کمی نہیں بلکہ کمزور نفاذ، بکھرے ہوئے ضابطے، بدعنوانی، اور مستقل نگرانی کے فقدان کا بھی ہے۔
ایک بڑا چیلنج پاکستان کی غیر رسمی غذائی معیشت ہے۔ سڑک کنارے ہزاروں دکاندار، قصابوں کی دکانیں، بیکریاں، اور چھوٹے فوڈ کاروبار مناسب نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب معاشی مشکلات عوام کو سستی مگر غیر معیاری اور غیر محفوظ اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ مختلف صوبوں میں فوڈ ریگولیشن کے الگ الگ نظام قومی سطح پر ہم آہنگی کو کمزور کرتے ہیں۔
پاکستان چونکہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، اس لیے حلال خوراک کی صداقت یہاں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم حلال سرٹیفیکیشن اور فوڈ ٹریس ایبلٹی کے نظام اب بھی مکمل طور پر یکساں اور مؤثر نہیں۔ اس کا اثر نہ صرف مقامی صارفین کے اعتماد پر پڑتا ہے بلکہ عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستان کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔
غیر محفوظ خوراک کے صحت پر اثرات نہایت سنگین ہیں۔ یہ معدے کے انفیکشن، ہیپاٹائٹس، کیڑے مار ادویات کے زہریلے اثرات، گردوں کی بیماریوں، اور سرطان پیدا کرنے والے مادوں کے طویل استعمال جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوتا ہے، جسے معیاری خوراک اور بہتر طبی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔
اگرچہ کچھ مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، عوامی آگاہی مہمات، معائنے، اور ڈیجیٹل شکایتی نظام نے صورتحال میں کسی حد تک بہتری پیدا کی ہے، مگر اب بھی قانون کے نفاذ میں سستی اور قانونی کارروائیوں میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستان کو فوری طور پر تین اہم اصلاحات کی ضرورت ہے: بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک متحد قومی فوڈ سیفٹی فریم ورک، بدعنوانی سے پاک اور مضبوط نفاذی ادارے، اور خوراک کے معیار و صارفین کے حقوق کے حوالے سے وسیع عوامی آگاہی۔
فوڈ سیفٹی اب صرف صحت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ حکمرانی، معاشی دیانت داری، اور قومی فلاح و بہبود کا معاملہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے پاس اپنے عوام کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ قوانین صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک کے ہر باورچی خانے، ریستوران، اور بازار تک عملی طور پر پہنچ سکیں۔


