تحریر : میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

2002 میں مجھے پہلی بار لندن جانے کا اتفاق ہوا میں اس معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا تھا وہاں انسانیت سے ہی پیار نہیں کیا جاتا انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور پرندوں سے پیار کیا جاتا ہے اور جانوروں کے باقاعدہ حقوق ہیں جہاں جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر باقاعدہ سزا دی جاتی ہے وہاں کے ایک چوک ٹیفیلگر سکوائر میں بہت زیادہ کبوتر ہوتے ہیں وہاں لوگ کبوتروں کو دانہ ڈبل روٹی اور اس قسم کی چیزیں ڈال جاتے ہیں کسی نے زہر آلود ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پھینک دیا جسے کھانے سے کچھ کبوتر مر گئے مقامی حکومت نے اس دن سے وہاں 2پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ خیال رکھیں کہ کوئی دوبارہ ایسی چیز نہ ڈال دے جس سے کبوتروں کو نقصان پہنچے اسی طرح ہم نے بکنگھم پیلس کے باہر واقع پارک میں خوبصورت منظر دیکھا کہ پرندے آپ کے پاوں میں پھر رہے ہیں لوگ ہتھیلی پر دانہ ڈالتے ہے گلہری ہاتھ پر سے دانہ چگ کر دوبارہ درخت پر چڑھ جاتا وہ معاشرہ اتنا محفوظ ہے کہ پرندوں کو بھی اپنے تحفظ کا احساس ہے وہ اس لیے آذادانہ پھرتے ہیں کہ انھیں پتہ ہے کسی نے ان سے چھیڑ خانی نہیں کرنی اور ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اب ذرا اپنے معاشرے کا جائزہ لیں ہم سوئے ہوئے کتے بلیوں کو خواہ مخواہ پتھر مار دیں گے ہم پتھر مارنے سے پہنچنے والی اذیت کو انجوائے کرتے ہیں آپ کبھی چڑیا گھر جا کر دیکھ لیں پڑھے لکھے لوگ بھی جانوروں اور پرندوں سے چھیڑخانی کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنے بچوں کو بھی جانوروں کو چھیڑنے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں ہم ہر ذی جان کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ہم تشدد پسند معاشرہ ہیں کتوں کو لڑا کر مزہ لیتے ہیں مرغوں کی لڑائی بٹیروں کی لڑائی پر مجمعے جمتے ہیں ہم بندروں کی اٹھکھیلوں سے محظوظ نہیں ہوتے انھیں تنگ کر کے انجوائے کرتے ہیں ہم معاشرے کو شعوری طور پر عورت کے احترام پر قائل نہیں کر سکے ہم نیفہ جسٹس کے ذریعے خوفزدہ کرکے عورت کے احترام پر مجبور کر رہے ہیں ہم دوران تفتیش ذہانت سے راز اگلوانے کے قائل نہیں ہر بات تشدد سے منواتے ہیں نہ ہمیں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے نہ بات منوانے کا ڈھنگ آتا ہے ہمیں تو احتجاج کرنا بھی نہیں آتا ہم احتجاج کرتے ہوئے سب کچھ ملیا میٹ کر دینے کے قائل ہیں ہم تضادات کا مجموعہ ہیں ایک طرف لاہور پولیس نے زخمی جانوروں کو ریسکیو کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ بنا رکھا ہے جہاں زخمی جانوروں کا علاج ہوتا ہے دوسری جانب ہم پولیس مقابلوں میں دھڑا دھڑ انسانوں کو مارے جا رہے ہیں جانوروں کا قتل عام کیے جا رہے ہیں
ملک سلمان نے اپنے گھر کے بایر پرندوں کے لیے سایہ فراہم کرکے وہاں دانہ پانی رکھ کر ایک ماڈل متعارف کروایا ہے اور وہ جو کتوں کو انصاف دلانے کی مہم شروع کیے ہوئے ہیں دراصل یہ معاشرے میں برداشت کو فروغ دینے کی ایک شعوری کوشش ہے شہریوں پر ظالمانہ جرمانوں سے ٹریفک کا نظام درست کرنے کی بجائے انھیں ٹریفک قوانین کا احترام سکھائیں راستہ روک کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے راستے دے کر لوگوں کے لیے سہولتیں پیدا کریں اور یہ سارا کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عام لوگوں کو انصاف مہیا نہیں ہوتا ہم جبر سے معاشرے کو درست نہیں کر سکتے ہم بذریعہ انصاف لوگوں کو تحفظ دے کر شعوری طور پر معاشرے کو درست ڈگر پر لا سکتے ہیں

