سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو) ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی ہدایت پر چیف آف آفیسر ضلح کونسل محمد اشفاق نے غیر قانونی 10ہاؤسنگ سکیم کے خلاف گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے انہیں سیل کر دیا جس میں معروف ہاوسنگ سوسائٹیز بھی شامل ہیں بڑی کارروائی ہے شور بھی نہیں ڈالا گیا ورنہ اپنی بلے بلے کروانا کسے پسند نہیں ہے جبکہ ہاوسنگ سوسائٹیز یہ اتنا بڑا مافیہ ہے 500پلاٹ کا بلاک ہوتا ہے اور کہیں ہزار لوگوں فائلیں بیچ دیتے ہیں شہریوں کے کروڑوں اربوں روپے الگ سے کھا کر ڈکار تک نہیں مارتے الٹا قسطوں پر پلاٹ لینے والوں کو قسط لیٹ ہونے پر جرمانہ ہزاروں روپے الگ سے وصول کرتے ہیں انہوں نے اپنے ہی قانون بنا رکھے ہیں۔
یہ بہت بڑی بات ہے ڈپٹی کمشنر صاحبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران ابھی تک ایک بھی ہاوسنگ سوسائٹی کو سوسائٹی بنانے کا این او سی نہیں دیا سیالکوٹ سمیت دیگر تحصیلوں میں تیزی سے گرین رقبہ ختم ہو رہا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف چاول اور گندم کی پیدواری قلت کا امکان تھا بلکہ تیزی سے ختم ہوتے زرعی رقبے کو بھی محفوظ بنانا تھا دوسری طرف ڈپٹی کمشنر نے چند ماہ قبل معروف سوسائٹی کو فراڈ کرنے پر نہ صرف اسے سیل کیا بلکہ ان سے ہر ماہ کم سے کم آٹھ سے دس متاثرین شہریوں کو کروڑوں روپے کی رقم کی واپسی کے چیک بھی دلوا رہی ہیں ورنہ کسے نہیں پتہ کہ ڈپٹی کمشنر کا اب اصل بریڈ اینڈ بٹر ہوتا ہی یہ ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں یہاں ان کو این او سی جاری کرکے کروڑوں روپوں کی دیہاڑیاں لگائی جاتی ییں کہیں دہائیوں کے بعد کسی ڈپٹی کمشنر نے کہاوت کو ہی الٹا کردیا اجازت تو دور الٹا پابندیاں اور کارروائیاں شروع کردی ہیں بلاشبہ ایسے دلیری سے کام وہی آفیسر کرسکتا ہے جو ایماندار دیانتدار ہو ورنہ ایسی مثال قائم کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے
