واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے اختتام اور بعد ازاں ہونے والی مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے بعد اپنی طاقت اور اختیار کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو مسترد کر دیا ہے۔ ‘دی ایگزیوس شو’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی طاقت کی کوئی حد نہیں مانتے۔
مارک کیپوٹو کے ساتھ گفتگو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جنگ نے ان کے اختیارات کو محدود کیا ہے، تو ٹرمپ کا دو ٹوک جواب تھا: "میری طاقت کی کوئی حد نہیں ہے۔” انہوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ جنگ کے نتائج نے انہیں کسی بھی طرح محدود کیا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ ڈیل اس لیے کی کیونکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں عالمی سطح پر ایک بڑی معاشی مندی (Global Depression) کا خطرہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ بمباری جاری رکھتے تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہو جاتی، جس سے دنیا میں مہینوں تک تیل کی سپلائی رک جاتی اور عالمی معیشت تباہ ہو سکتی تھی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ نے امریکا کی عسکری طاقت کو ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میرے علاوہ یہ کون کر سکتا تھا؟ میں نے ایسی بحری ناکہ بندی کی کہ ایک جہاز بھی گزرنے کی جرات نہ کر سکا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا یہ معاہدہ دراصل ان کی "مکمل عسکری فتح” ہے اور اسے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے مترادف سمجھا جانا چاہیے۔
اپنے ناقدین، جو ان پر ایران کے خلاف مزید سخت موقف نہ اپنانے کا الزام لگا رہے ہیں، کو جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ مزید دو تین ہفتے بمباری کر سکتے تھے، لیکن اس کا فائدہ کیا ہوتا؟ "جب تک آپ بم گرا رہے ہیں، آبنائے ہرمز خود بخود بند رہے گی، اور ہم مہینوں تک تیل سے محروم رہیں گے۔”
واضح رہے کہ قریبی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نجی محفلوں میں یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ دنیا میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، اور اس صورتحال میں تیل کی سپلائی میں خلل ایک عالمی معاشی بحران کو جنم دے سکتا تھا۔
(بشکریہ ایگزیوس نیوز ویب سائٹ)
ایران سے معاہدہ مکمل فوجی فتح، میری طاقت لامحدود ہے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایگزیوس کو انٹرویو

