خصوصی رپورٹ: عاشر علی، اسلام آباد
پاکستان کے مالیاتی شعبے میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تجارتی بینکوں کی من مانیوں، پوشیدہ کٹوتیوں اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کی سنگین ناکامیوں پر بینکنگ محتسب پاکستان نے سخت ترین قانونی ایکشن لیتے ہوئے ملک بھر کے بینکوں کو 1.87 ارب روپے کی خطیر رقم معصوم صارفین کو فوری واپس کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر سے دائر کی جانے والی ہزاروں شکایات پر ہونے والی اس اہم ترین کارروائی کے بعد متاثرہ شہریوں کے اکاؤنٹس میں ان کی ہڑپ کی گئی رقم کامیابی سے منتقل کر دی گئی ہے۔
بینکنگ محتسب سیکرٹریٹ کو موصول ہونے والی ریکارڈ شکایات پر کی جانے والی تفصیلی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ صارفین کو سب سے بڑا نقصان آن لائن سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پہنچا، جہاں ہیکرز اور آن لائن فراڈ گروہوں نے شہریوں کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کیے۔ اس کے علاوہ، بینکوں کی جانب سے بغیر اطلاع کے عائد کیے جانے والے پوشیدہ سروس چارجز، اے ٹی ایم مشینوں کی تکنیکی خرابیوں کے نتیجے میں کٹنے والی رقم، اور ڈیبٹ کارڈز کی غیر قانونی فیسیں بھی اس بڑے خسارے کی بنیادی وجوہات تھیں۔ اسلام آباد سے عاشر علی کی اس خصوصی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کی بینکنگ تاریخ میں صارفین کی سب سے بڑی مالیاتی فتح قرار دیا جا رہا ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب تجارتی بینک صارفین کے سرمائے کو غیر محفوظ رکھنے یا بلاوجہ کٹوتیاں کرنے پر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔

