سکھر ( رپورٹ / عبد الرحمان راجپوت ) سکھر میں نجی ہسپتالوں کے خلاف ٹیکس کارروائی کا مطالبہ، عوام نے ایف بی آر ایکشن کو سراہ دیاسکھر کی عوامی و سماجی حلقوں نے ریور سٹی ہسپتال پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسی نوعیت کی کارروائیاں شہر کے دیگر بڑے نجی ہسپتالوں اور میڈیکل اداروں کے خلاف بھی کی جائیں تاکہ ٹیکس نظام کو شفاف بنایا جا سکے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سکھر کے کئی بڑے نجی ہسپتال اور میڈیکل سینٹرز مریضوں سے بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں لیکن بیشتر معاملات میں صرف نقد رقم لینے کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ مریضوں کو مناسب رسیدیں بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ عوامی حلقوں نے خاص طور پر حرا میڈیکل سینٹر، بلڈ بنک ہسپتال ٫ شاہد میرانی ہسپتال اور دیگر نجی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر ان اداروں کے مالی معاملات، ٹیکس ریکارڈ اور ادائیگیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لے۔شہریوں کے مطابق صرف کیش لین دین کی وجہ سے نہ صرف ٹیکس چوری کے خدشات بڑھتے ہیں بلکہ عام مریض بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں ادائیگی کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں ہوتا۔ عوام نے کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شفاف نظام اپنانا چاہیے تاکہ مریضوں کا اعتماد بحال ہو اور قومی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔سماجی رہنماؤں اور شہری تنظیموں نے حکومت اور ایف بی آر حکام سے مطالبہ کیا کہ سکھر سمیت سندھ بھر کے نجی ہسپتالوں میں مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جائے اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر نجی اسپتالوں اور بڑے کاروباری اداروں کے مالی معاملات شفاف بنائے جائیں تو نہ صرف قومی خزانے میں اضافہ ہوگا بلکہ عام شہریوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور کرپشن و بے ضابطگیوں میں کمی آئے گی۔

