تحریر: اعجاز واریو
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔وہیں سے سچ کا آغازہوتاہے

سندھ، مہاجر اور مشترکہ تاریخ: محبت، قربانی اور سیاست کے درمیان ایک سفربرصغیر کی تقسیم 1947 صرف جغرافیہ کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کی ہجرت، قربانیوں اور نئے خوابوں کی داستان بھی تھی۔ اس ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمان ہندوستان کے مختلف شہروں سے نئے وطن پاکستان آئے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ان خاندانوں کی تھی جنہوں نے اپنا گھر، زمین، کاروبار اور رشتے قربان کرکے پاکستان کو اپنا مستقبل بنایا۔جب یہ قافلے سندھ پہنچے تو سندھی قوم نے ان مہاجر مسلمانوں کو صرف پناہ نہیں دی بلکہ انہیں اپنے بھائی سمجھ کر گلے لگایا۔ سندھ کی سرزمین نے ہمیشہ مہمان نوازی، رواداری اور انسان دوستی کی مثال قائم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سندھ کے دیگر شہروں میں آنے والے لاکھوں مہاجر خاندانوں کو رہنے کی جگہ، کاروبار اور نئی زندگی شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔سندھ کی مہمان نوازی اور تاریخی کردارقیامِ پاکستان کے بعد جب ہندوستان سے آنے والے مہاجرین بڑی تعداد میں سندھ پہنچے تو اس وقت سندھ کے لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے۔ کئی سندھی خاندانوں نے اپنے مکانات، دکانیں اور زمینیں مہاجر خاندانوں کے ساتھ بانٹیں۔ اس وقت نہ زبان دیکھی گئی، نہ نسل اور نہ ہی علاقائی فرق۔ صرف ایک رشتہ تھا مسلمان ہونے اور پاکستانی ہونے کا۔سندھ کے شہری علاقوں خصوصا کراچی میں آنے والے مہاجرین نے تعلیم، تجارت، بیوروکریسی، صحافت اور صنعت میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب سندھی قوم نے بھی زراعت، ثقافت، ادب اور سیاسی شعور کے ذریعے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ سندھ اور مہاجر ایک دوسرے کے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔نفرت کی سیاست کیسے شروع ہوئی؟وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی جماعتوں اور مفاد پرست عناصر نے اقتدار کے حصول کے لیے لسانی اور نسلی بنیادوں پر سیاست شروع کی۔ لوگوں کو زبان، نسل اور شناخت کے نام پر تقسیم کیا گیا۔ ایک طرف سندھی نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا گیا کہ ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مہاجر نوجوانوں کو یہ باور کرایا گیا کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔یہ سیاست رفتہ رفتہ نفرت میں تبدیل ہوتی گئی۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کراچی اور حیدرآباد جیسے شہر لسانی کشیدگی کا شکار ہوئے۔ بے شمار معصوم لوگ جان سے گئے، خاندان اجڑ گئے اور بھائی بھائی سے دور ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عام سندھی اور عام مہاجر ایک دوسرے کے دشمن کبھی نہیں تھے۔ نفرت صرف سیاسی مفادات کی پیداوار تھی۔حقیقت کیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی دھرتی نے ہمیشہ سب کو اپنایا ہے۔ آج بھی سندھ میں لاکھوں اردو بولنے والے خاندان نسلوں سے آباد ہیں اور سندھ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح سندھی قوم نے بھی ہر دور میں اتحاد، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیا ہے۔اگر تاریخ کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سندھ اور مہاجر دونوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ایک نے سرزمین دی، دوسرے نے ہجرت کی تکلیف برداشت کی۔ دونوں نے مل کر اس ملک کی تعمیر میں حصہ لیا۔نئی نسل کے لیے پیغامآج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو نفرت نہیں بلکہ تاریخ کا اصل رخ بتایا جائے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ لسانی تقسیم سے صرف سیاستدان فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ نقصان عام عوام کا ہوتا ہے۔سندھی، مہاجر، پنجابی، بلوچ یا پختون سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ اگر ماضی کی تلخیوں کو دہراتے رہیں گے تو آنے والی نسلیں بھی تقسیم کا شکار رہیں گی۔ لیکن اگر محبت، احترام اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے تو سندھ دوبارہ امن، ترقی اور رواداری کی مثال بن سکتا ہے۔اختتامیہسندھ کی تاریخ محبت، صوفی ازم اور انسان دوستی کی تاریخ ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت سندھیوں نے مہاجر بھائیوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا، انہیں سہارا دیا اور اپنا سمجھا۔ بعد میں کچھ سیاسی قوتوں نے اپنے مفادات کے لیے نفرت کے بیج بوئے، مگر عوام کے دل آج بھی ایک دوسرے کے لیے محبت رکھتے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ نفرت کی سیاست کو دفن کرکے اتحاد، بھائی چارے اور پاکستان کی مضبوطی کے لیے مل کر آگے بڑھا جائے۔ کیونکہ یہ ملک ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اور اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہاں ہر زبان، ہر ثقافت اور ہر قومیت کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔
