جھڈو( رپورٹ / قیصر راجہ راجپوت)
گورنمنٹ گرلز مین پرائمری اسکول جھڈو میں مبینہ طور پر زہریلا پانی پینے کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے اسکول انتظامیہ کی جانب سے حقائق کو چھپانے کی وجہ سے معاملہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے آج اسکول انتظامیہ کے خلاف جاں بحق ہونے والی بچیوں کے والدین سلیم تالپور ، دادا مظفر تالپور ، بیمار بچیوں شازیہ لنڈ، اسما خشک و دیگر نے اسکول انتظامیہ کے خلاف پران ندی کے پل پر سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں احتجاج میں اسکول میں پڑھنے والی بچیاں بھی شامل تھی، اس موقع پر عوامی تحریک کے ایڈووکیٹ ایاز کلوئی و دیگر بھی موجود تھے ،احتجاج کے دوران بچیوں نے انکشاف کیا ہے کہ جو فلٹر پلانٹ اور نیلی ٹنکی اسکول انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر جھڈو اور ٹان چیئرمین و دیگر افراد کو دکھائی تھی اس میں سے بچیوں کو کبھی پانی پینے ہی نہیں دیا گیا ہے اسکول کی تمام بچیاں پیچھے جو واش روم کی سیمنٹ کی بنی ہوئی ٹنکی ہے اس میں سے پانی پیتی ہیں جو واٹر کولر لگا ہوا ہے اس میں سے صرف کلاس ٹیچرز کو ہی پانی پینے کی اجازت ہے،جبکہ اسکول انتظامیہ میں سے کچھ ٹیچرز نے بچوں کو میڈیا کو بیان دینے سے سختی سے منع کرتے ہوئے دھمکیاں بھی دی ہیں کہ اگر بیان دیا تو اسکول سے نکال دیں گے اسکول انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو دھمکانا بچوں کے ورثاکے پاس اظہار ہمدردی کے لئے نہ جانا دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر و کمیٹی ممبران کی جانب سے جانبحق ہونے والی بچیوں کے پاس اظہار ہمدردی کے لئے نہ جانا بھی کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے،بچیوں کے ورثا کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے معاملے کی شفاف عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے اب جو سوالیہ نشان اسکول انتظامیہ پر ہیں وہ یہ کہ اسکول انتظامیہ کو بار بار جھوٹ بولنے کی ضرورت پیش کیوں آئی دو دن میں پانی کی ٹنکی صاف کیوں کروائی گئی واٹر کولر غیر فعال تھا اس کو ایمرجنسی میں فعال کیوں کیا گیا بچوں کو تو اس واٹر کولر سے پانی پینے ہی نہیں دیا جاتا تو یہ ٹنکی کیوں دیکھائی گئی،احتجاج میں اسکول میں پڑھنے والی بچیوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں تو کبھی اس واٹر کولر سے پانی پینے ہی نہیں دیا جاتا ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسکول کی سیمنٹ والی ٹنکی کا پانی خراب تھا پھر ایمرجنسی میں صاف کیوں کیا گیا، ورثا نے الزام لگایا کہ اسکول میں ٹیچرز پڑھانے کے بجائے ٹک ٹاک بنانے اور فیس بک چلانے میں کیوں مصروف ہوتی ہیں بچیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹیچرز صرف موبائل چلانے میں مصروف ہوتی ہیں بچیوں کو نہیں پڑھاتی اس پر کیوں ایکشن نہیں لیا گیا ہیڈ مسٹریس کا دھمکی آمیز لہجہ بار بار ایک ہی ٹنکی دیکھا کر وضاحت دینے کی نوبت کیوں آئی یہ بھی سوالیہ نشان ہیں اس پر محکمانہ کاروائی ضرور ہونی چاہیے، بچیوں کے ورثا اور مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر جھڈو کی انکوائری کمیٹی اور محکمہ تعلیم کی انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس کر مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرکے مبینہ طور پر زہریلا پانی پینے سے دو بچیوں کی موت کا سبب بننے والی اسکول کی نااہل انتظامیہ وملوث عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرکے ورثا کو فوری انصاف فراہم کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا ،


