نئی دہلی:بھارت میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد کی خودکشیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے تازہ ترین اعداد و شمار نے دیہی معیشت کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 10,546 کسانوں اور زرعی مزدوروں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔
اگرچہ 2023 کے مقابلے میں خودکشیوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، لیکن زمینی حقائق اب بھی لرزہ خیز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں اوسطاً ہر روز 28 کسان یا مزدور موت کو گلے لگا رہے ہیں۔یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں ہر ایک گھنٹے میں ایک کسان خودکشی کر رہا ہے۔
ملک میں ہونے والی مجموعی خودکشیوں میں زرعی شعبے کا حصہ 6.2 فیصد رہا۔
رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب کسانوں سے زیادہ زرعی مزدور اس بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ 2024 میں خودکشی کرنے والے کل افراد میں سے 56 فیصد (5,913 افراد) زرعی مزدور تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی خاندانوں کی اپنی زمین سے آمدنی کم ہو رہی ہے اور مزدوری پر بڑھتے ہوئے انحصار نے معاشی عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔
خودکشیوں کے پھیلاؤ میں مہاراشٹر ایک بار پھر پہلے نمبر پر رہا، جہاں ملک کی کل زرعی خودکشیوں کا 36.26 فیصد یعنی 3,824 واقعات پیش آئے۔
ریاست وار فہرست:
مہاراشٹر: 3,824
کرناٹک: 2,971 (خودکشیوں میں 22.61 فیصد کا نمایاں اضافہ)
مدھیہ پردیش: 835
آندھرا پردیش: 780 (15.67 فیصد کمی کے باوجود چوتھے نمبر پر)
رپورٹ کے مطابق کرناٹک اور راجستھان میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اتر پردیش اور بہار جیسی بڑی ریاستوں میں صورتحال نسبتاً مختلف رہی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک دیہی آمدنی میں استحکام اور قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ انسانی المیہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
بھارت میں ہر ایک گھنٹے میں ایک کسان کی خودکشی، روزانہ 28 کسان اپنے ہاتھوں اپنی جانیں لینے لگے

