لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نجی کالج کے طلبہ نے مسلم ٹاؤن موڑ پر اودھم مچا دیا، جس نے شہر کے امن و امان اور پولیس کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ بااثر گھرانوں کے چشم و چراغوں نے گھنٹوں اہم ترین شاہراہ کو یرغمال بنائے رکھا، جس سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق، نجی کالج کے سینکڑوں طلبہ نے فیروز پور روڈ پر مسلم ٹاؤن موڑ کے مقام پر سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔ اس دوران نوجوان طلبہ سرعام سگریٹ نوشی کرتے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے نظر آئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رنگ پھینکنے کا یہ انداز بالکل غیر اسلامی اور ہندوانہ طرز کا تھا، جس نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دیں۔
حیرت انگیز طور پر، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود تھی، لیکن وہ ان ‘لاڈلے’ طلبہ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی۔ پولیس کی موجودگی میں ہی طلبہ نے شدید آتشبازی کی، جس کے دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ مین فیروز پور روڈ سے گزرنے والے خاندان، بالخصوص خواتین اور بچے اس صورتحال سے شدید خوفزدہ ہو گئے اور کئی گاڑیوں نے تصادم سے بچنے کے لیے الٹے راستوں کا انتخاب کیا۔
واقعے کے دوران ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا اور ایمبولینسز بھی گھنٹوں پھنسی رہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس ان طلبہ کے خلاف کارروائی کرنے سے اس لیے کتراتی رہی کیونکہ ان میں سے اکثریت بااثر سیاسی اور سماجی شخصیات کی اولادیں بتائی جاتی ہیں۔
"یہ شہر ہے یا کوئی بارسوخ امیروں کی چراگاہ؟ اگر کوئی عام شہری سڑک پر کھڑا ہو جائے تو پولیس اسے اٹھا لیتی ہے، لیکن یہاں ‘بڑے صاحبزادوں’ کے سامنے وردی خاموش تماشائی بنی رہی۔”
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ‘طوفانِ بدتمیزی’ میں ملوث طلبہ اور خاموش تماشائی بننے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوامی شاہراہوں کو ہراساں کرنے کا مرکز بننے سے بچایا جا سکے۔

