اسلام آباد : پاکستان میں بھنگ (Cannabis) کے طبی اور صنعتی استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم کردہ ’کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ (CCRA) کو فعال کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر کی تزئین و آرائش اور آپریشنل کاموں کے لیے 10 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ اتھارٹی اسلام آباد میں وفاقی کابینہ ڈویژن کے ماتحت کام کرے گی۔ اتھارٹی کو ’پاکستان کونسل فار رینوبل انرجی ٹیکنالوجیز‘ کی سابقہ عمارت الاٹ کی گئی ہے، جس کی مرمت اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے یہ فنڈز استعمال کیے جائیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اگرچہ اتھارٹی نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن فی الوقت 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں سے 10 کروڑ روپے فوری طور پر جاری کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس اتھارٹی کا قیام سابق صدر عارف علوی کے دور میں ایک آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان میں بھنگ کے پودوں کی کاشت، ان سے عرق نکالنے، طبی و صنعتی استعمال اور فروخت کو ایک منظم قانونی فریم ورک کے تحت لانا ہے۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کاشت اور پیداوار کے لائسنس 5 سال کے لیے کارآمد ہوں گے۔یہ ادارہ وفاقی حکومت کو بھنگ سے متعلق پالیسی امور پر مشاورت فراہم کرے گا۔
ڈیفنس سیکرٹری بورڈ کے سربراہ ہوں گے جبکہاس اتھارٹی کا ڈھانچہ انتہائی مضبوط رکھا گیا ہے۔ یہ 13 رکنی ’بورڈ آف گورنرز‘ کے تحت کام کرے گی جس کی سربراہی سیکرٹری ڈیفنس ڈویژن کریں گے۔ بورڈ میں کابینہ ڈویژن اور وزارتِ قانون،وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کےنمائندوں کےعلاوہصوبائی حکومتوں کے نمائندے،انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام،اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام شامل ہوں گے۔(DRAP)
ماہرین کا ماننا ہے کہ بھنگ کی قانونی کاشت اور اس کی برآمد سے پاکستان اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں طبی مقاصد کے لیے بھنگ کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا یہ حالیہ مالیاتی اقدام اس منصوبے کو جلد از جلد حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک بڑا اشارہ ہے۔
بھنگ اتھارٹی ہیڈکوارٹر کیلئے 20 کروڑ جاری، کاشت کیلئے5 سالہ لائسنس جاری ہوں گے

