اسلام آباد (نیوز ڈیسک): متحدہ عرب امارات (UAE) سے پاکستانیوں کو ہدف بنا کر ملک بدر کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری ہیجان خیز خبروں پر پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا دو ٹوک اور بڑا بیان سامنے آ گیا ہے۔ حکومت نے ان تمام خبروں کو ‘من گھڑت’ اور ‘مذموم پروپیگنڈا’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ ایک ہنگامی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور میڈیا کے مخصوص حصوں میں یو اے ای جیسے برادر اسلامی ملک سے متعلق جو اعداد و شمار اور تفصیلات پھیلائی جا رہی ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیان کے مطابق:
"یہ رپورٹس بدنیتی پر مبنی ہیں اور مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کے مذموم پروپیگنڈے کا حصہ ہیں تاکہ دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔”
وزارتِ داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت کسی بھی ملک میں کسی خاص ملک، فرقے یا گروہ کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ اگر کہیں بے دخلی کے واقعات پیش آئے ہیں تو اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
قوانین کی خلاف ورزی: میزبان ملک کے قانونی نظام کی خلاف ورزی کرنا۔
ویزہ کی مدت: قیام کی مدت (Overstay) ختم ہو جانا۔
غیر قانونی دستاویزات: جعلی یا ادھوری دستاویزات پر قیام کرنا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک "معمول کا قانونی عمل” ہے جو ہر ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے، اسے ‘ٹارگٹڈ ایکشن’ کہنا سراسر غلط ہے۔
وزارتِ داخلہ نے پاکستانی شہریوں کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ویزہ اور ملازمت کے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں، انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایسے شہری بغیر کسی امتیاز کے بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک کا سفر کر رہے ہیں اور وہاں نئے ورک ویزے بھی حاصل کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اگر کسی پاکستانی شہری کو بیرون ملک کوئی جائز مسئلہ درپیش ہو تو اسے ہمیشہ کیس ٹو کیس کی بنیاد پر متعلقہ ملک کے ساتھ دفترِ خارجہ کے ذریعے اٹھایا جاتا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں (Fake News) پر کان نہ دھریں، جو صرف خفیہ مقاصد کے حصول کے لیے تیار کی گئی ہیں۔پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو ہدف بنا کر بے دخل کرنے کی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا میں متحدہ عرب امارات جیسے برادر اسلامی ملک سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ ٹارگٹ کرکے بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کی تفصیلات اور اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایسی تمام رپورٹس بدنیتی پر مبنی ہیں اور مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کے مذموم پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔‘بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات سمیت کسی بھی ملک سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملک بدری نہیں کی جا رہی۔ اگر کہیں بے دخلی کے واقعات پیش آئے ہیں تو وہ میزبان ملک کے قوانین، قانونی نظام، قوانین کی خلاف ورزی، قیام کی مدت ختم ہونے یا غیر قانونی دستاویزات کے باعث معمول کے قانونی عمل کے تحت ہوتے ہیں۔‘
وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی شہری جو میزبان ممالک کے ویزا اور ملازمت سے متعلق تقاضے پورے کرتے ہیں، بغیر کسی امتیاز کے بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک کا سفر کر رہے ہیں اور وہاں کے ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس پھیلائی جانے والی جعلی خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس بدنیتی پر مبنی، من گھڑت معلومات اور خفیہ مقاصد کے حصول کے لیے تیار کی گئی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی پاکستانی شہری سے متعلق کسی مسئلے یا معاملے کو ہمیشہ متعلقہ ملک کے ساتھ دفترِ خارجہ کے کے ذریعے کیس ٹو کیس کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے۔

