شہدادپور (رپورٹ عمران قمر ) میونسپل کمیٹی شہدادپور کے ملازم کا جبری تبدیلی کے خلاف احتجاج، خودکشی کی دھمکی:میونسپل کمیٹی شہدادپور کے ملازم احمد علی رند نے اپنے مبینہ جبری ریلیوو آرڈر کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بلدیہ انتظامیہ اور مقامی منتخب نمائندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احمد علی رند نے کہا کہ چیف میونسپل آفیسر (سی ایم او) نظیر ڈاھیو اور چیئرمین بلدیہ علی مرتضی تھہیم نے پانچ ماہ قبل مجھ سمیت چھ ملازمین کو جبری طور پر تبدیل کر کے یو سی لنڈو بھیجنے کے احکامات جاری کیے تھے، جس کے بعد سے ہماری پانچ ماہ کی تنخواہیں بھی روک دی گئی ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں کی بندش کے باعث ہم نے گزشتہ عید الفطر انتہائی کسمپرسی میں گزاری اور اب عیدالاضحی سر پر ہونے کے باوجود ہمارے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے ہم شدید ذہنی و معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔احتجاجی ملازم نے مزید کہا کہ ہم پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ جیالے ہیں اور پارٹی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ فوری طور پر انصاف کیا جائے اور روکی گئی تنخواہیں بحال کی جائیں، بصورت دیگر وہ عیدالاضحی کے دن خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لیں گے۔ احمد علی رند نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بلدیہ انتظامیہ، میونسپل چیئرمین اور ایم پی اے شاہد عبدالسلام تھہیم پر عائد ہوگی۔
میونسپل کمیٹی شہدادپور کے ملازم کا جبری تبدیلی کے خلاف احتجاج، خودکشی کی دھمکی

