سکھر(رپورٹ بیورو چیف محمد قاسم ملک )
سکھر بیراج کے تعمیراتی کام کے دوران دو ماہ قبل کوفر ڈیم ٹوٹنے کے واقعے کے بعد متاثرہ مزدور کو تاحال نہ معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی اس کی مزدوری ادا کی گئی ہے۔دبڑلوئی کے رہائشی مزدور نادر علی شیخ سکھر نیشنل پریس کلب پہنچ کر انصاف کے لیے فریاد کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں سعید جتوئی کے ذریعے کام پر رکھا گیا تھا، جہاں انہوں نے ایک ماہ تک مسلسل کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ فروری کے پہلے ہفتے میں اچانک کوفر ڈیم ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں ان کا تقریبا 30 لاکھ روپے مالیت کا ٹریکٹر اور 3 لاکھ روپے کا پانی نکالنے والا پمپ ڈوب گیا۔نادر علی شیخ کے مطابق کمپنی کی جانب سے انہیں 2 لاکھ 10 ہزار روپے ماہانہ مزدوری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب پانچ ماہ گزرنے کے باوجود نہ مزدوری ملی ہے اور نہ ہی نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خراب شدہ ٹریکٹر اب بھی کمپنی کے پاس کھڑا ہے۔متاثرہ مزدور کا کہنا تھا کہ اس کا اور اس کے خاندان کا گزر بسر صرف اسی ٹریکٹر پر تھا اور اب وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں جلد معاوضہ اور بقایا مزدوری ادا کی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ اپنے بچوں سمیت چینی کمپنی کے دفتر کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھوک سے مرنے سے بہتر ہے کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے مر جاں۔”
