کراچی :اداکارہ و میزبان مشی خان اپنے بیباک تبصروں کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتی ہیں، لیکن اس بار انہوں نے کسی انسان پر نہیں بلکہ براہِ راست ‘بادلوں’ پر چڑھائی کر دی ہے۔ ان کے حالیہ دعوے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
مشی خان نے ملک کے بدلتے ہوئے موسم کے حوالے سے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے سائنسدانوں سے زیادہ سوشل میڈیا صارفین کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ مشی خان کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشیں اور بادل قدرتی نہیں بلکہ ‘مصنوعی’ ہیں۔
مشی خان کی ’ویدر لاجک‘
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں مشی خان نے کہا کہ وہ اس بات پر شرط لگانے کے لیے تیار ہیں کہ یہ بادل اصلی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، قدرتی موسم اتنی تیزی سے نہیں بدلتا۔ انہوں نے اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا:
”عام طور پر بارش کے بعد موسم صاف ہو جاتا ہے، لیکن یہاں تو عجیب ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔ پانچ منٹ میں کالی گھٹائیں چھاتی ہیں، بارش ہوتی ہے اور پھر آدھے گھنٹے میں کڑک دھوپ نکل آتی ہے۔ یہ سب نارمل نہیں ہے، کچھ تو گڑ بڑ ہے جس کا جلد پتہ چل جائے گا۔“
معروف صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ایکس پر ان کی ٹویٹ شئیر کی ہے۔
Actress Mishi Khan has accused the government for alleged artificial weather modifications 🔥 pic.twitter.com/gnBh1zl7bn
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) April 6, 2026
اور ٹرولنگ شروع
مشی خان کا یہ بیان سامنے آتے ہی انٹرنیٹ صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ جہاں کچھ لوگوں نے ان کے تجسس کا مذاق اڑایا، وہیں کچھ نے اسے ‘سستی شہرت’ حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا۔
ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ”لگتا ہے مشی خان کو اب بادلوں میں بھی پنجاب حکومت کی سازش نظر آنے لگی ہے، شاید یہ بادل بھی پروٹوکول کے تحت آ رہے ہیں۔“
ایک اور صارف کا کہنا تھا: ”اسی لیے کہتے ہیں کہ اسکول جانا اور جغرافیہ پڑھنا کتنا ضروری ہے۔“
کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اداکارہ کو اپنی ‘ذہنی صحت’ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بادلوں پر شک کرنا کسی عام انسان کا کام نہیں ہے۔
سائنسی پہلو یا محض وہم؟
اگرچہ دنیا کے کچھ حصوں میں ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ (مصنوعی بارش) کی جاتی ہے، لیکن مشی خان جس تیزی سے موسم بدلنے کی بات کر رہی ہیں، ماہرینِ موسمیات اسے موسمِ بہار کی روایتی تبدیلیوں اور ’پری مون سون‘ اثرات سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم، مشی خان اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی ’شرط‘ پوری ہوتی ہے یا یہ بیان بھی ماضی کے دیگر بیانات کی طرح محض ایک یادگار بن کر رہ جائے گا۔

