واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مالی سال 2027 کے لیے کانگریس کے سامنے ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جس نے دفاعی اخراجات کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 1500 ارب ڈالر کے بھاری بھرکم جنگی بجٹ کی منظوری مانگی ہے، جسے ماہرین امریکی پالیسی میں ’جنگی جنون‘ کی انتہا قرار دے رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ مجوزہ دفاعی بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زائد ہے۔ اس میں ہونے والا اضافہ درج ذیل ہے:
اضافی رقم: گزشتہ سال کی نسبت 455 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ طلب کیا گیا ہے۔
ایران جنگ کا خرچہ الگ: سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ 1500 ارب ڈالر ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے لیے مختص 200 ارب ڈالر کے علاوہ ہیں۔ یعنی مجموعی دفاعی بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔
عوامی فلاح پر شب خون: ”ڈے کیئر وفاق کا کام نہیں“
اس عظیم الشان جنگی مشینری کو چلانے کے لیے صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
فلاحی کٹوتی: عوامی بہبود اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں 73 ارب ڈالر کی بڑی کٹوتی تجویز کی گئی ہے۔
ٹرمپ کا موقف: بدھ کے روز ایک تقریب میں صدر ٹرمپ نے صاف الفاظ میں کہا کہ ”امریکا اس وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے، ایسے حالات میں وفاقی حکومت بچوں کی نگہداشت (Daycare) جیسے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈے کیئر جیسے معاملات ریاستوں کی ذمہ داری ہیں، وفاق کی نہیں۔
1. سماجی تحفظ کے پروگراموں کا خاتمہ
بجٹ میں غریب طبقے کے لیے لائف لائن سمجھے جانے والے کئی پروگراموں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے:
بجلی و گیس کی امداد: کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے 4 ارب ڈالر کا ہوم انرجی اسسٹنس پروگرام (LIHEAP) ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
غربت کا خاتمہ: 775 ملین ڈالر کا ‘کمیونٹی سروسز بلاک گرانٹ’ بھی نشانے پر ہے، جس کا مقصد غربت میں کمی لانا تھا۔
2. توانائی اور کلائمیٹ ریسرچ میں کٹوتیاں
ٹرمپ انتظامیہ نے سابق صدر جو بائیڈن کے ‘انفراسٹرکچر قانون’ کو بھی نشانہ بنایا ہے:
بائیڈن فنڈنگ کی منسوخی: محکمہ توانائی (DOE) کے لیے مختص 15 ارب ڈالر منسوخ کرنے اور 4.5 ارب ڈالر سے زائد رقم کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے۔
کلین انرجی ریسرچ: ماحولیاتی تبدیلیوں اور صاف توانائی پر تحقیق کے لیے مختص 1 ارب ڈالر سے زائد رقم ختم کر دی جائے گی۔
3. ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) پر وار
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کا بجٹ 50 فیصد (آدھا) کرنے کی تجویز دی گئی ہے:
صاف پانی کے منصوبے: پینے کے صاف پانی اور ماحولیاتی انصاف کے پروگراموں کو یہ کہہ کر ختم کیا جا رہا ہے کہ یہ "نسلی امتیاز” کو فروغ دیتے ہیں۔
سپر فنڈ پروگرام: زہریلے فضلے کی صفائی کے منصوبوں (Superfund) کو بھی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
4. واشنگٹن ڈی سی کی تزئین و آرائش
بجٹ میں جہاں عوامی فلاحی اداروں میں 12 فیصد کٹوتی تجویز کی گئی ہے، وہیں صدر ٹرمپ کے پسندیدہ منصوبے کے لیے بھاری رقم مانگی گئی ہے:
10 ارب ڈالر کا فنڈ: واشنگٹن ڈی سی اور اس کے گرد و نواح میں تعمیراتی اور خوبصورتی کے منصوبوں کے لیے 10 ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
1500 ارب ڈالر کا ’تاریخی جنگی بجٹ‘: ٹرمپ کا کانگریس سے بارود کے لیے خطیر رقم کا مطالبہ؛ عوامی فلاحی منصوبوں پر قینچی چل گئی

