تہران/واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے، جس سے سفارتی تعطل مزید گہرا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک تیسرے ملک کے ذریعے بدھ کو تہران کو جنگ بندی کی پیشکش کی گئی تھی، جسے قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے براہِ راست کسی بھی قسم کی گفتگو کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔
ثالثوں نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حکام نے امریکی عہدیداروں سے ملاقات کی تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ بندی چاہتا ہے، تاہم تہران نے اسے محض پراپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں، جن پر سمجھوتہ کرنے کو وہ تیار نہیں:
جنگ سے ہونے والے تمام مالی و جانی نقصانات کی تلافی کی جائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ اور فوج کی واپسی۔
مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔
ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف میدانِ جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تہران کی بہشتی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں 3 افراد شہید ہوئے اور یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
نشانہ بننے والی عمارت میں لیزر اور پلازما پر تحقیق کی جاتی تھی۔
28 فروری سے اب تک ایران میں 600 سے زائد اسکول اور تعلیمی ادارے حملوں کی زد میں آ چکے ہیں، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

