واشنگٹن/تہران : مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے درمیان امریکی انٹیلی جنس کے ایک تازہ جائزے نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مسلسل 35 دنوں تک جاری رہنے والی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ‘فتح کے دعوؤں’ کے بالکل برعکس ہے۔
سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ:
ایران کے تقریباً 50 فیصد میزائل لانچرز اب بھی مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہیں۔
ہزاروں ‘یک طرفہ حملہ آور’ (خودکش) ڈرونز اب بھی ایرانی گوداموں میں موجود ہیں جو خطے میں کسی بھی وقت بڑی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
یہ رپورٹ صدر ٹرمپ کے اس بیان کی نفی کرتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ایران کی اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہو چکی ہیں اور اب بہت کم میزائل بچے ہیں”۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک ایران کے اندر 12,300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اگرچہ ان حملوں میں ایران کو جانی نقصان ہوا ہے اور سپریم لیڈر سمیت اہم قیادت کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، لیکن ایران کا دفاعی ڈھانچہ مکمل تباہ نہیں ہوا۔
انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق، ایران نے برسوں پہلے اپنے میزائل لانچرز اور ڈرون یونٹس کو زیرِ زمین غاروں اور میلوں طویل سرنگوں کے جال میں چھپا دیا تھا۔ یہ موبائل لانچرز مسلسل اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے سیٹلائٹ اور فضائی حملوں کے ذریعے انہیں سو فیصد ختم کرنا ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایرانی بحریہ کی آدھی صلاحیت اب بھی باقی ہے۔ سیکڑوں چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور غیر مسلح جہاز آبنائے ہرمز میں موجود ہیں، جو عالمی تجارتی جہاز رانی کو کسی بھی وقت مفلوج کر سکتے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے اس انٹیلی جنس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقدین صدر ٹرمپ کی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو مکمل فضائی برتری حاصل ہے اور ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت 90 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔
ایران کا 50 فیصد میزائل اور ڈرون نیٹ ورک اب بھی محفوظ؛ امریکی انٹیلی جنس کے ’خفیہ جائزے‘ نے پینٹاگون میں کھلبلی مچا دی

