Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”قدرت سے دشمنی نہ کرو“ ملک محمد سلمان کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ملک محمد سلمان
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    انسان فطری طور پر خود غرض اور مطلبی ہے، سائنس کے مطابق انسان اور کتے کا تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے، جو اس رشتے کی گہرائی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان غار میں رہا کرتا تھا تب اُسے شکار کے لیے ایسے ساتھی کی ضرورت پڑتی تھی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ تب کتا انسان کی زندگی میں آیا اور دونوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔
    اسی طرح بلی کو بھی پالتو کا درجہ 6000 سال قبل تب ملا جب انسان نے کاشکاری شروع کی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے، اگر گھر بدل جائے تو وہ پرانے گھر کو چھوڑ کر مالک کے ساتھ نئے گھر چلا جاتا ہے۔
    کتا انتہائی وفادار ساتھی ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔
    کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وفادار جانور صدیوں سے انسانوں کے ساتھ مل کر شکار، گھر کی حفاظت اور جذباتی دوست کے طور پر رہ رہے ہیں اور انسان پر انحصار کرتے ہیں۔ تمام جانوروں میں کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہن سہن سب سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔
    بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو، ظالمو تم نے چند سال بعد مر جانا ہے لیکن یہ انسانیت دشمنی کی لعنت بعد ازمرگ بھی تاریخ کی صورت لعنت بن کر تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس لیے کتوں مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرو۔ شیلٹر ہوم کے نام پر جو "مال” تمہیں نظر آرہا ہے اس لالچ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔
    ہم سب کو یاد کرنا چاہئے کہ بچپن میں ان بے گھر و بے زبان کتوں کیلئے ہمارے گھروں میں لازم روٹی پکتی ہوتی تھی، مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ عین مغرب کے وقت کتے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے تھے اور جیسے ہی انکو روٹی دینی وہ دم ہلا کر شکریہ ادا کرکے چلے جاتے تھے۔
    دنیا میں سب سے زیادہ پالتو کتے امریکہ، چین اور روس میں پائے جاتے ہیں۔ کتے امریکی ثقافت اور گھرانوں کا اہم حصہ ہیں، جن کی دیکھ بھال اور ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے خصوصی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔
    قدیم یونانی ادب سمیت دنیا بھر کے ادب میں کتوں کا مثبت ذکر موجود ہے۔ مشہور ہیلتھ ویب سائیٹ ”بولڈ اسکائی‘‘ کے مطابق ایسے افراد جو گھروں میں پالتو کتوں کو رکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر رہتی ہے۔
    انسان کے علاوہ ہر حیوان یا جاندار صرف خطرے کی صورت میں یا بھوک سے مغلوب ہوکر ہی کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔
    زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔
    جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
    حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
    اہم سوال ہے کہ برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟
    اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟

     

    Related Posts

    عنوان: ٹنڈوالہیار: ڈپٹی کمشنر  نے پولیو مہم کا افتتاح کر دیا، آگاہی واک کا انعقاد

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

      میاں چنوں: ریڑھی بانوں کا بلدیہ ملازمین پر رشوت ستانی کا الزام، اسسٹنٹ کمشنر کا انکوائری کا حکم

    مقبول خبریں

    گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا سے   12 لاکھ کروڑ ٹن برف غائب ، دنیا کو بڑا خطرہ لاحق!

    ہندوستانی کرکٹر ایشان کشن نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کیوں کہا؟

    ہند-افغان تیسرا ٹی-20: ابھیشیک شرما کی 30 گیندوں پر سنچری، تاریخ رقم

      میاں چنوں: ریڑھی بانوں کا بلدیہ ملازمین پر رشوت ستانی کا الزام، اسسٹنٹ کمشنر کا انکوائری کا حکم

    عالمی میڈیا میں ہلچل: وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج کا ٹویٹر اکاؤنٹ بحال

    بلاگ

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اچانک ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.