کراچی : حکومتِ سندھ نے وفاقی سطح پر پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد صوبے کے عوام کو بڑی مالی راحت پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق، انتظامی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سستے پٹرول کی رقم اب پمپ کے بجائے براہِ راست شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔
موٹر سائیکل سواروں کے لیے ‘ماہانہ تحفہ’
اسکیم کے تحت سندھ کے موٹر سائیکل مالکان کو 2000 روپے ماہانہ مالی امداد دی جائے گی۔ اس رقم کا حساب 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت کے حساب سے لگایا گیا ہے۔
اہلیت کے لیے لازمی شرائط:
ملکیت کا ثبوت: موٹر سائیکل لازمی طور پر درخواست گزار کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔
ڈیجیٹل اکاؤنٹ: رقم کی وصولی کے لیے ایک فعال بینک اکاؤنٹ یا کوئی بھی ڈیجیٹل والٹ (جیسے ایزی پیسہ یا جیز کیش) ہونا ضروری ہے۔
ملکیت کی منتقلی اب بالکل مفت!
ایسے شہری جو دوسروں کے نام پر یا ‘اوپن لیٹر’ پر موٹر سائیکل چلا رہے ہیں، ان کے لیے وزیراعلیٰ نے بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ اب شہری بغیر کسی ٹرانسفر فیس کے موٹر سائیکل اپنے نام کروا سکتے ہیں تاکہ وہ اس سبسڈی کے اہل بن سکیں۔
رجسٹریشن کا طریقہ اور ادائیگیوں کا شیڈول
موبائل ایپ: محکمہ ایکسائز سندھ آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں ایک خصوصی ایپلی کیشن لانچ کرے گا جہاں شناختی کارڈ اور بینک تفصیلات درج کی جا سکیں گی۔
پہلی قسط: کوائف کی تصدیق کے بعد 15 سے 20 اپریل کے درمیان 2000 روپے کی پہلی ادائیگی کر دی جائے گی۔
کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی بڑے اعلانات
صرف شہری متوسط طبقہ ہی نہیں، بلکہ زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے بھی وزیراعلیٰ نے دل کھول کر امداد کا اعلان کیا ہے:
چھوٹے کسان: ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر چھوٹے کاشتکاروں کو 1500 روپے فی ایکڑ دیے جائیں گے، جس کی ادائیگیاں پیر سے شروع ہو رہی ہیں۔
گندم کی قیمت: گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر: پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے آپریٹرز کے لیے ماہانہ 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی مالی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ کرایوں میں بلاجواز اضافہ روکا جا سکے۔
موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 2000 ہزار امداد کیسے ملے گی؟ جانئیے طریق کار

