کھٹمنڈو : نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ‘ماؤنٹ ایورسٹ’ پر ٹریکنگ کے لیے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا ایک منظم نیٹ ورک پکڑا گیا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹریکنگ گائیڈز، ہیلی کاپٹر کمپنیوں اور ہسپتالوں نے ملی بھگت کر کے معصوم سیاحوں کو جان بوجھ کر بیمار کیا تاکہ انشورنس کمپنیوں سے کروڑوں ڈالرز بٹورے جا سکیں۔
نیپالی حکام کے مطابق، ٹریکنگ گائیڈز سیاحوں کے کھانے میں بیکنگ سوڈا ملا دیتے تھے، جس سے ان کے معدے میں شدید تکلیف پیدا ہوتی۔ یہ علامات ‘ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنیس’ (بلندی کی بیماری) سے ملتی جلتی تھیں، جس کے بعد سیاحوں کو خوفزدہ کر کے فوری طور پر مہنگے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔
نیپال پولیس نے اس گھناؤنے دھندے میں ملوث 32 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی ہے، جن میں ٹریکنگ کمپنیوں کے مالکان اور ہسپتالوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ تفتیش کے مطابق:
سیاحوں کو ہسپتال منتقل کر کے ان کی جعلی میڈیکل رپورٹس تیار کی جاتیں تاکہ بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں سے بھاری رقوم وصول کی جا سکیں۔
اس اسکیم کے ذریعے اب تک تقریباً 1 کروڑ 97 لاکھ ڈالر حاصل کیے گئے۔ صرف ایک کمپنی نے 171 جعلی ریسکیو کیسز کے ذریعے 1 کروڑ ڈالر سے زائد رقم ہڑپ کی۔
اس اسکینڈل نے نیپال کی سیاحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کئی بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں نے فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے نیپال آنے والے سیاحوں کی انشورنس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا حکم دیا ہے اور ملزمان پر 1 کروڑ 13 لاکھ ڈالر جرمانے کی استدعا کی گئی ہے۔
ایورسٹ پر ‘بیکنگ سوڈا’ کا خونی کھیل! سیاحوں کو زہر دے کر بیمار کرنے والا بین الاقوامی گروہ بے نقاب؛

