بنگلورو/نیویارک (نیوز ڈیسک): امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ ‘اوریکل’ نے اپنے عالمی آپریشنز میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرتے ہوئے تقریباً 30 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے شدید جھٹکا بھارت کو لگا ہے، جہاں اندازاً 12 ہزار ہنرمندوں کو فارغ کر دیا گیا ہے
رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے یہ قدم اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اٹھایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی اب روایتی افرادی قوت کے بجائے اے آئی ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
متاثرہ ملازمین نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ بھرے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ تھا۔
کئی ملازمین کو صبح 5 یا 6 بجے ای میل موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ان کی خدمات اب درکار نہیں ہیں۔
ای میل ملتے ہی ملازمین کی سسٹم اور کمپنی کے ڈیٹا تک رسائی (Access) فوری طور پر ختم کر دی گئی، جس سے انہیں اپنے ساتھیوں کو خدا حافظ کہنے کا موقع بھی نہ ملا۔
برطرف ہونے والے کئی ملازمین برسوں سے کمپنی کے ساتھ وابستہ تھے، اور ان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے اس طرح نکالے جانا ان کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنا ہے
اوریکل سے 30 ہزار ملازمین فارغ، بھارت سب سے زیادہ متاثر؛ صبح سویرے ای میل کے ذریعے نوکریوں سے نکال دیا گیا

