تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

اب ذرا قتل کیس کے حوالے سے دیکھ لیں کہ ملزمان کیوں بری ہوگئے قرار دیا گیا کہ ایف آئی آر 16 گھنٹوں کی تاخیر سے درج کروائی گئی حالانکہ مدعی وقوعہ سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہسپتال میں موجود تھا تاخیر سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر باقاعدہ مشاورت اور منصوبہ بندی سے درج کروائی گئی ہے،لامحالہ سی بات ہے اتنے بڑے وقوعہ کے بعد انسان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں مدعی مقتولین کو دیکھتا کافی دور لاڑکانہ ہسپتال میں داخل زخمی کو دیکھتا پوسٹمارٹم کرواتا تدفین کا بندوبست کرتا یا بروقت ایف آئی آر درج کرواتا
عینی شاہدین کے بیانات بھی بدنیتی پر مبنی قرار دیے گئے ہیں کہ عدالت میں گواہان نئی تفصیلات سامنے لے آئے جو ایف آئی آر اور پولیس بیان میں نہیں تھی،یہ بھی نکتہ اٹھایا گیا کہ اگر ملزمان سارے خاندان کو ختم کرنا چاہتے تھے تو گواہان کو زندہ کیوں چھوڑ دیا گیا اور پولیس نے عینی شاہدین دکانداروں کے بیانات کیوں نہ لیے رکن اسمبلی سردار خان چانڈیو کو قتل میں ملوث ثابت کرنے کے شواہد بھی نامکمل ہیں وہ وقوعہ کے روز دوسرے ضلع ٹنڈو محمد خان میں موجود تھا، ٹیلیفون کال ریکارڈ کی تفصیلات کی تصدیق سولر کمپنیوں سے نہیں کروائی گئی ان میں آواز کی ریکارڈنگ موجود نہیں جس کی وجہ سے وہ قانونی طور پر رابطے یا سازش ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں ایسے لگتا ہے کہ پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن کی تمام تر توجہ ملزمان کی بےگناہی پر مرکوز تھی یہ بھی ممکن ہے کہ ملزمان بےگناہ ہوں لیکن تین بندوں کو آخر کسی نے تو مارا ہے وہ مارنے والے آخر کون ہیں اس کا تعین کون کرے گا کیا ان کا قتل کھوہ کھاتے چلا جائے گا ام رباب اپنے پیاروں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرے یوں لگتا ہے 8سال ملزمان کی بےگناہی ثابت کرنے پر صرف ہوئے ہیں ریاست ہر شہری کی اصل وارث ہوتی ہے جس کی پیروی کرنے والا کوئی نہ ہو اس کی پیروی بھی ریاست کرتی ہے اگر یہ سارے نامزد ملزم بےگناہ تھے تو کسی پولیس اہلکار نے یہ زحمت کیوں نہ گوارا کی کہ وہ اصل قاتلوں کو ڈھونڈ نکالتا اب اس کا تعین کون کرے گا کہ ام رباب کے والد چچا اور دادا کو کس نے مارا ہے کہیں ایسا تو نہیں مقتولین نے آپس میں ایک دوسرے کو گولیاں مار دی ہوں ویسے پولیس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کاش عدالت فیصلہ میں اس کیس کے تحقیقات کاروں کو یہ ہی حکم دے دیتی کہ اصل قاتلوں کو 6ماہ میں عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ تحقیقات کاروں کو سزا ملے گی ذرا غور کیجئے گا کہ پاکستان میں جرائم کیوں بڑھ رہا جس معاشرے میں انصاف ناپید ہو جائے وہاں اسی قسم کی افراتفری جنم لیتی ہے جس کا شکار پاکستان نظر آتا ہے
آج سے 20 سال قبل لندن میں ایک قتل کیس کا بڑا چرچا تھا ایک بارہ تیرہ سال کی ایک لڑکی کی نعش دریائے ٹیمز سے ملی جس کو زیادتی کے بعد قتل کرکے دریا میں پھینک دیا گیا تھا نہ اس واقعہ کا کوئی مدعی تھا نہ ملزم کا پتہ تھا بچی بھی شکل وصورت سے برٹش نہیں لگتی تھی پاکستان میں ایسا واقعہ ہوا ہوتا تو پولیس نے لاوارث قرار دے کر دفنا کر جان چھڑوا لینی تھی لیکن چونکہ برطانیہ کی ریاست ہر شہری کی وارث تھی اس لیے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا بچی اور اس کے جسم سے ملنے والے ملزم کے شواہد کے ٹیسٹ کروائے گئے کی تحقیقات پر کئی سال لگ گئے لاکھوں پاونڈ اس کی تحقیقات پر خرچ ہوئے آخر کار پولیس ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور پولیس نے ملزم کو جمیکا سے جا کر گرفتار کر لیا نہ ملزم برطانیہ کا تھا نہ مقتولہ برطانیہ کی تھی لیکن چونکہ وقوعہ برطانیہ میں ہوا تھا انھوں نے بھاری رقوم خرچ کرکے اور اپنے تمام تر وسائل خرچ کر کے پوری تندہی کے ساتھ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے آخری حد تک جایا گیا لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جرم کو پرموٹ کرنے کے لیے سہولت کاری کی جاتی انصاف کی بالادستی کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے ریاستی اداروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے وہ نہ ہو بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جاپہنچے

