ہانگ کانگ : دنیا بھر میں جاری توانائی کے بحران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے جہاں پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، وہاں ہانگ کانگ اس وقت دنیا کا مہنگا ترین شہر بن چکا ہے جہاں پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ یہاں ایک گیلن پٹرول کی قیمت 15.6 امریکی ڈالر (تقریباً 4,350 پاکستانی روپے)یعنی ایک ہزار روپے فی لٹر تک جا پہنچی ہے۔
جب سے صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی لائن متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز، جو تیل کی تجارت کا سب سے اہم راستہ ہے، اس کی بندش نے ایشیائی معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ہانگ کانگ، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ پر منحصر ہے، اس جنگ کی سب سے زیادہ قیمت چکا رہا ہے۔
گاڑی رکھنا اب خواب بن گیا!
ہانگ کانگ کی 75 لاکھ آبادی میں سے صرف 8.4 فیصد لوگ اپنی گاڑی رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف پٹرول نہیں، بلکہ پارکنگ کی فلک شگاف فیسیں اور رجسٹریشن کے بھاری اخراجات بھی ہیں۔لوگ پریشان ہیں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےجیسن کان (ایک کنسلٹنٹ) نے کہا کہ "پٹرول کی قیمتوں میں 15 فیصد حالیہ اضافہ میرے بجٹ پر بجلی بن کر گرا ہے۔ پہلے ہی یہاں قیمتیں دنیا میں سب سے زیادہ تھیں، اب تو گاڑی چلانا عیاشی بن گیا ہے۔”
جبکہ لیو (ڈیلیوری ڈرائیور) کا کہنا تھا کہ "پٹرول مہنگا ہو گیا لیکن کھانے کی ڈیلیوری کے پیسے نہیں بڑھے۔ اب تو موٹر سائیکل چلانا بھی گھاٹے کا سودا لگتا ہے۔”
سستا پٹرول لینے کے لیے ’بارڈر پار‘ کا سفر
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ہانگ کانگ کے شہری اپنی گاڑیاں لے کر پڑوسی چینی شہر شینزین (Shenzhen) بھاگ رہے ہیں۔ وہاں پٹرول ہانگ کانگ کے مقابلے میں تین گنا سستا مل رہا ہے۔ لوگ نہ صرف ٹنکی فل کروانے وہاں جاتے ہیں بلکہ وہیں سے سستی گروسری اور کھانا کھا کر واپس آتے ہیں۔
شہر کے سربراہ جان لی نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ شہر کی سپلائی لائن محفوظ ہے کیونکہ ہانگ کانگ اپنا 80 فیصد تیل چین سے حاصل کرتا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق، "مادرِ وطن (چین) کی مضبوط حمایت کی وجہ سے ہم توانائی کی قلت سے بچے ہوئے ہیں، ورنہ حالات اس سے بھی بدتر ہو سکتے تھے۔”.
دنیا کا وہ شہر جہاں قیمتوں نے ہوش اڑا دیے؛ ایک گیلن پٹرول کی قیمت سن کر آپ کو اپنی مہنگائی ’سستی‘ لگنے لگے گی!

