اسلام آباد : پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک انقلابی اور سخت قدم اٹھایا ہے۔ اب یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے لاکھوں کمانے والے انفلوئنسرز کے لیے ‘ٹیکس فری’ دن ختم ہونے والے ہیں۔
ٹیکس کے دائرے میں کون آئے گا؟
ایف بی آر کے نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق، انکم ٹیکس رولز 2002 میں بڑی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اب وہ تمام سوشل میڈیا کریئیٹرز ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے جو درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہیں:
سالانہ سبسکرائبرز: جن کے فالوورز یا سبسکرائبرز کی تعداد ایک سال میں 50 ہزار سے زیادہ ہو۔
سہ ماہی حد: اگر کسی ایک سہ ماہی (3 ماہ) میں 12 ہزار 250 نئے صارفین جڑے ہوں۔
غیر رہائشی افراد: وہ افراد جو بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی صارفین کے ذریعے پیسہ کما رہے ہیں، وہ بھی اس قانون کی زد میں آئیں گے۔
ایف بی آر کا ‘جادوئی’ فارمولا
ایف بی آر نے یوٹیوب ویوز سے ہونے والی آمدن کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک باقاعدہ ریٹ مقرر کر دیا ہے، تاکہ کوئی اپنی اصل کمائی چھپا نہ سکے:
ویوز پر ٹیکس: ہر 1000 ویوز پر 195 روپے کی آمدن تصور کی جائے گی۔
اخراجات کی چھوٹ: کریئیٹرز کو اپنی کل آمدن میں سے صرف 30 فیصد تک اخراجات (جیسے کیمرہ، ایڈیٹنگ، انٹرنیٹ وغیرہ) منہا کرنے کی اجازت ہوگی۔
زیادہ رقم کا اصول: اگر آپ کی اصل وصول شدہ رقم ایف بی آر کے فارمولے سے زیادہ ہے، تو اصل رقم پر ٹیکس لگے گا۔ اگر اصل رقم کم ہے، تو ایف بی آر کے فارمولے والی رقم کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نئے ضوابط کے تحت تمام ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے ایڈوانس ٹیکس جمع کرانا اور سالانہ گوشواروں میں اپنی سوشل میڈیا آمدن کا الگ سے ذکر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر کسی انفلوئنسر نے اپنی آمدن کم ظاہر کی، تو متعلقہ ٹیکس کمشنر کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ریکارڈ درست کرے اور قانونی کارروائی کے ذریعے واجب الادا رقم وصول کرے۔
ایف بی آر نے اس مجوزہ ڈرافٹ پر عوام، یوٹیوبرز اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے 7 روز کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔ اس مدت کے بعد ان قواعد کو حتمی شکل دے کر فوری طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔
یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز ہوشیار! ایف بی آر کا ڈیجیٹل کمائی پر وار، ویوز اور سبسکرائبرز پر ٹیکس کافارمولا تیار!

