تہران / دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)جزیرہ خارگ پر امریکی بمباری کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے متحدہ عرب امارات کو ہولناک نتائج کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کے مطابق، ایران نے اماراتی حکام کو مطلع کیا ہے کہ وہ اماراتی شہروں اور بندرگاہوں میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔
ایران نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ، ابوظہبی کی خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ کے قریبی علاقوں کو "فوری” طور پر خالی کر دیں۔
🚨🇮🇷🇦🇪 New footage on Fujairah strike
The world’s 3rd-largest oil storage hub. The port specifically designed to bypass the Strait of Hormuz. The one route that let oil reach global markets without passing Iran.
No longer a Plan B for Gulf oil exports.pic.twitter.com/5Eqc5S4lwz https://t.co/Sxunh2KFTL
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 14, 2026
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ان بندرگاہوں اور شہری تنصیبات میں امریکی افواج کی موجودگی نے انہیں "جائز فوجی ہدف” بنا دیا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جس جگہ سے بھی امریکی میزائل داغے گئے، اس جگہ کو ایران اپنے دفاع میں نشانہ بنائے گا اور یو اے ای میں موجود تمام امریکی اڈے اب ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات
دبئی اور ابوظہبی کی بندرگاہیں دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہیں ہیں۔ جبل علی پورٹ پر حملے کی دھمکی نے عالمی سپلائی چین اور انشورنس مارکیٹوں میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ان بندرگاہوں کو نشانہ بنایا تو عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

