Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ’’ اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس ’’ٹرمپ نے نئے ’’ایئر فورس ون‘‘ کی رونمائی کردی،

      1000 سال پرانا دیو ہیکل ‘میجر اوک’ درخت ہمیشہ کے لیے خاموش؛ شیئر ووڈ فاریسٹ کا قدیم ترین ورثہ ختم!

      ٹائیٹن آبدوز حادثے کی تین سال بعد تحقیقاتی رپورٹ جاری

      آئی فون صارفین کے لئے بری خبر، ایپل نے بڑا اعلان کردیا

      بھارتی طیاروں پر پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں توسیع

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈینگی موت کا کھیل شروع ؟ انتظامی مجرمانہ غفلت،، کون سے انتظامی افسران تبدیل ہو ں گے ؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب میں ڈینگی کے حوالے سے سامنے آنے والی ابتدائی اطلاعات کسی طور حوصلہ افزا نہیں۔ محکمہ صحت کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق اگر فوری، مربوط اور پیشہ ورانہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور حالات دوبارہ 2011 جیسے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ وہ سال پنجاب کی صحت کی تاریخ میں ایک تلخ باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جب لاہور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں ڈینگی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے اور ہزاروں مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں پنجاب میں ہزاروں افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے جبکہ سینکڑوں اموات رپورٹ ہوئیں۔

    اس کے بعد حکومت نے سخت مانیٹرنگ، فعال سرویلنس، فیلڈ آپریشنز اور مربوط انسدادِ ڈینگی مہم کے ذریعے اس مرض کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔ تاہم موجودہ زمینی صورتحال یہ اشارہ دے رہی ہے کہ بعض اضلاع میں انتظامی کمزوری اور فیلڈ لیول پر مجرمانہ غفلت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔

    راولپنڈی، لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، ساہیوال، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور ملتان اس وقت ممکنہ خطرے کی زد میں تصور کیے جا رہے ہیں اس حوالے سے ان انتظامی افسران کو تبدیل کئے جانے کا امکان ہے ۔

    رپورٹس کے مطابق 2025 کے دوران پنجاب میں ڈینگی وائرس کی منتقلی جاری رہی اور صوبے بھر میں 3500 سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ڈینگی ابھی بھی صوبے کے لیے ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور اس کے رجحان میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مارچ وہ مہینہ ہوتا ہے جب ڈینگی کا لاروا بننا شروع ہوتا ہے۔ اس سال موسم کی غیر معمولی تبدیلی، ابتدائی گرمی اور بارشوں کے امتزاج نے مچھر کی افزائش کے لیے نہایت سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کر کے لاروا کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر غفلت برتی جائے تو چند ہی ہفتوں میں یہ مسئلہ وبائی صورت اختیار کر لیتا ہے۔بدقسمتی سے زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں جگہ جگہ کھڑا پانی نظر آتا ہے مگر اس کی بروقت نکاسی کا کوئی مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ تعلیمی اداروں، سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات پر صفائی کی صورتحال بھی کئی جگہوں پر غیر تسلی بخش ہے۔ کباڑیوں کی دکانیں، پلاسٹک اور ری سائیکلنگ فیکٹریاں، ٹائر شاپس اور پنکچر کی دکانیں ایسے مقامات ہیں جہاں جمع پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے، مگر وہاں ایس او پیز کے مطابق سخت کارروائی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔انسدادِ ڈینگی مہم میں سب سے مؤثر اقدامات میں لاروا سائیڈ ادویات کا چھڑکاؤ، ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، فوگنگ، سپرے مہم، فیلڈ سرویلنس اور روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض علاقوں میں پانی کے جوہڑ موجود ہونے کے باوجود ادویات کے چھڑکاؤ اور سپرے کی منظم کارروائیاں نظر نہیں آ رہیں۔ اگر لاروا کے مرحلے پر ہی اسے ختم نہ کیا جائے تو بعد میں صورتحال کو قابو میں لانا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔یہاں ایک تلخ حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ڈینگی سے ہونے والی اموات کا ایک بڑا سبب انتظامی غفلت اور بروقت اقدامات کا نہ ہونا ہے۔ جب صفائی، سرویلنس اور سپرے جیسے بنیادی اقدامات وقت پر نہ کیے جائیں تو اس کی قیمت عام شہری اپنی صحت اور اپنی جان سے ادا کرتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آئے جب بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں افراد جان سے گئے اور ہزاروں متاثر ہوئے۔ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے۔پنجاب حکومت کا ستھرا پنجاب پروگرام صفائی اور شہری ماحول کی بہتری کے بڑے دعووں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، مگر کئی علاقوں میں اس کی عملی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اگر گلیوں اور بازاروں میں پانی جمع رہے اور کچرا بروقت نہ اٹھایا جائے تو انسدادِ ڈینگی مہم کی کامیابی ممکن نہیں رہتی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پالیسی سازی اور وژن صوبائی سطح پر طے ہوتا ہے، مگر اس پر عملدرآمد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر چند انتظامی افسران اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتیں تو اس کا براہِ راست اثر حکومت کی مجموعی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ چند افسران کی نااہلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی بہتر کارکردگی اور عوامی اقدامات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔اسی تناظر میں صوبے کے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اضلاع کو واضح اور سخت ہدایات جاری کریں اور انسدادِ ڈینگی مہم کو صرف کاغذی رپورٹوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر فیلڈ میں فعال بنائیں۔ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، بروقت سپرے، پانی کے جوہڑوں کا خاتمہ اور صفائی کے ہنگامی اقدامات فوری طور پر یقینی بنانا ناگزیر ہے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ڈینگی ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے، لیکن اگر انتظامی غفلت برقرار رہی تو اس کی قیمت ایک بار پھر عوام کی قیمتی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ خطرہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ دار ادارے بروقت جاگیں گے یا پھر ایک اور بحران کا انتظار کیا جائے گا؟

    Related Posts

    تھر پارکر میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ، تین بے زبان اونٹوں کو کلہاڑی کے وار کرکے شدید زخمی کردیا گیا

    امریکا ایران مذاکرات، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران روانہ

    واسا کے تمام منصوبے ہرصورت مون سون سے قبل مکمل کرنے کا حکم

    مقبول خبریں

    امریکا ایران مذاکرات، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران روانہ

    پاکستان میں مہنگائی کا طوفان برقرار؛ سالانہ شرح 15.28 فیصد تک پہنچ گئی، اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور

    خانیوال: تیزرفتار بس نے ایک ہی خاندان کے 3 افراد کی جان لے لی ایک شدید زخمی 

    کاکروچ جنتا پارٹی کا آج پھر جنتر منتر پر انوکھا احتجاج، مودی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے

    جینیوا،امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ

    بلاگ

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    چودہ نکاتی معاہدہ: امن کی دستاویز یا طاقت کی نئی تقسیم؟امریکہ اور ایران معاہدے کا جائزہ

    300 ارب ڈالر کا سوال: سرمایہ کاری، سفارت کاری یا ایران کے لیے نئی شروعات؟

    ”آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت !پوری سی سی ڈی نے ماتھا ٹیکا‘‘ انصاف ، عزت صرف غیر ملکی پاسپورٹ والوں کے لیے ہے: فواد چوہدری

    ہانیہ کا خون ہمارے نظام کی خاموشی اور دادا کی خواہش ؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.