Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ”ہرنوں کا جزیرہ خارگ“ایران سمیت دنیا بھر کے لئے اتنا اہم کیوں ہے؟

      پاکستان سمیت مختلف ممالک میں انسٹا گرام ڈاؤن، صارفین پریشان

      پاکستان میں 5G کا خواب حقیقت بننے کے قریب: 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل،

      ایمیرات ایئر لائن کا بڑا اعلان: ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بھی خوشخبری، ری فنڈ اور ری بکنگ کی سہولت کا بھی اعلان

      بھارتی فضائیہ کا سخوئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ: دو پائلٹ ہلاک،

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈینگی موت کا کھیل شروع ؟ انتظامی مجرمانہ غفلت،، کون سے انتظامی افسران تبدیل ہو ں گے ؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب میں ڈینگی کے حوالے سے سامنے آنے والی ابتدائی اطلاعات کسی طور حوصلہ افزا نہیں۔ محکمہ صحت کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق اگر فوری، مربوط اور پیشہ ورانہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور حالات دوبارہ 2011 جیسے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ وہ سال پنجاب کی صحت کی تاریخ میں ایک تلخ باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جب لاہور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں ڈینگی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے اور ہزاروں مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں پنجاب میں ہزاروں افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے جبکہ سینکڑوں اموات رپورٹ ہوئیں۔

    اس کے بعد حکومت نے سخت مانیٹرنگ، فعال سرویلنس، فیلڈ آپریشنز اور مربوط انسدادِ ڈینگی مہم کے ذریعے اس مرض کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔ تاہم موجودہ زمینی صورتحال یہ اشارہ دے رہی ہے کہ بعض اضلاع میں انتظامی کمزوری اور فیلڈ لیول پر مجرمانہ غفلت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔

    راولپنڈی، لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، ساہیوال، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور ملتان اس وقت ممکنہ خطرے کی زد میں تصور کیے جا رہے ہیں اس حوالے سے ان انتظامی افسران کو تبدیل کئے جانے کا امکان ہے ۔

    رپورٹس کے مطابق 2025 کے دوران پنجاب میں ڈینگی وائرس کی منتقلی جاری رہی اور صوبے بھر میں 3500 سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ڈینگی ابھی بھی صوبے کے لیے ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور اس کے رجحان میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مارچ وہ مہینہ ہوتا ہے جب ڈینگی کا لاروا بننا شروع ہوتا ہے۔ اس سال موسم کی غیر معمولی تبدیلی، ابتدائی گرمی اور بارشوں کے امتزاج نے مچھر کی افزائش کے لیے نہایت سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کر کے لاروا کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر غفلت برتی جائے تو چند ہی ہفتوں میں یہ مسئلہ وبائی صورت اختیار کر لیتا ہے۔بدقسمتی سے زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں جگہ جگہ کھڑا پانی نظر آتا ہے مگر اس کی بروقت نکاسی کا کوئی مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ تعلیمی اداروں، سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات پر صفائی کی صورتحال بھی کئی جگہوں پر غیر تسلی بخش ہے۔ کباڑیوں کی دکانیں، پلاسٹک اور ری سائیکلنگ فیکٹریاں، ٹائر شاپس اور پنکچر کی دکانیں ایسے مقامات ہیں جہاں جمع پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے، مگر وہاں ایس او پیز کے مطابق سخت کارروائی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔انسدادِ ڈینگی مہم میں سب سے مؤثر اقدامات میں لاروا سائیڈ ادویات کا چھڑکاؤ، ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، فوگنگ، سپرے مہم، فیلڈ سرویلنس اور روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض علاقوں میں پانی کے جوہڑ موجود ہونے کے باوجود ادویات کے چھڑکاؤ اور سپرے کی منظم کارروائیاں نظر نہیں آ رہیں۔ اگر لاروا کے مرحلے پر ہی اسے ختم نہ کیا جائے تو بعد میں صورتحال کو قابو میں لانا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔یہاں ایک تلخ حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ڈینگی سے ہونے والی اموات کا ایک بڑا سبب انتظامی غفلت اور بروقت اقدامات کا نہ ہونا ہے۔ جب صفائی، سرویلنس اور سپرے جیسے بنیادی اقدامات وقت پر نہ کیے جائیں تو اس کی قیمت عام شہری اپنی صحت اور اپنی جان سے ادا کرتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آئے جب بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں افراد جان سے گئے اور ہزاروں متاثر ہوئے۔ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے۔پنجاب حکومت کا ستھرا پنجاب پروگرام صفائی اور شہری ماحول کی بہتری کے بڑے دعووں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، مگر کئی علاقوں میں اس کی عملی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اگر گلیوں اور بازاروں میں پانی جمع رہے اور کچرا بروقت نہ اٹھایا جائے تو انسدادِ ڈینگی مہم کی کامیابی ممکن نہیں رہتی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پالیسی سازی اور وژن صوبائی سطح پر طے ہوتا ہے، مگر اس پر عملدرآمد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر چند انتظامی افسران اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتیں تو اس کا براہِ راست اثر حکومت کی مجموعی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ چند افسران کی نااہلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی بہتر کارکردگی اور عوامی اقدامات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔اسی تناظر میں صوبے کے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اضلاع کو واضح اور سخت ہدایات جاری کریں اور انسدادِ ڈینگی مہم کو صرف کاغذی رپورٹوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر فیلڈ میں فعال بنائیں۔ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، بروقت سپرے، پانی کے جوہڑوں کا خاتمہ اور صفائی کے ہنگامی اقدامات فوری طور پر یقینی بنانا ناگزیر ہے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ڈینگی ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے، لیکن اگر انتظامی غفلت برقرار رہی تو اس کی قیمت ایک بار پھر عوام کی قیمتی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ خطرہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ دار ادارے بروقت جاگیں گے یا پھر ایک اور بحران کا انتظار کیا جائے گا؟

    Related Posts

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک

    ایران ڈیل کے لیے بے تاب مگر شرائط ابھی مناسب نہیں: صدر ٹرمپ کا جوہری عزائم ترک کرنے اور ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم

    عید پر ڈاکو متحرک، لاہور ڈیفنس میں 19 کروڑ کی ڈکیتی

    مقبول خبریں

    ”ہرنوں کا جزیرہ خارگ“ایران سمیت دنیا بھر کے لئے اتنا اہم کیوں ہے؟

    حکیم شہزاد المعروف لوہا پاڑ کی پانچویں شادی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل، دلہن کون ہے؟

    بآلاخر امریکا نے بڑا فیصلہ کرلیا:آبنائے ہرمز خالی کرانے کیلئے 2200 امریکی میرینز اور جنگی بحری جہاز روانہ،

    ایک کروڑ ڈالر فی کس،رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور اعلیٰ قیادت کے سروں کی قیمت مقرر،

    "کیمرہ مین” شوہر  ،بغیر اجازت ویڈیو بنانے والے  کی دو ‘خفیہ’ بیویوں کا بھی پول کھل گیا!

    بلاگ

    ڈینگی موت کا کھیل شروع ؟ انتظامی مجرمانہ غفلت،، کون سے انتظامی افسران تبدیل ہو ں گے ؟

    ’’جے ویکھاں میں عملاں ولے’’ توفیق بٹ کا کالم

    ”جنگ کے اثرات“ میاں حبیب کا کالم

    سرحد پار سے صنعتی فضلے کا ریلا: راوی اور ستلج میں بڑھتی آلودگی، ‘آبی جنگ’ کی دستک ،وفاقی دارالحکومت کے 74 فیصد ندی نالے گندے نالوں میں تبدیل!

    ”پٹرول بم “ توفیق بٹ کا کالم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.