تہران :ایران کے جنوب مغرب میں واقع جزیرہ خارگ 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ صوبہ بوشہر کا حصہ ہے۔ یہاں کی خاص بات تیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ہرنوں کی بڑی تعداد بھی ہے، جو اس جزیرے میں جابجا گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ ہرنوں کے رہنے اور افزائش نسل کے موزوں سمجھا جاتا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہرنوں کی تعداد جزیرے کی گنجائش سے بھی بڑھ گئی ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور تیل کی برآمدات کا بڑا ٹرمینل بھی یہاں موجود ہے۔
خارگ کو خام تیل کی برآمد اور لوڈنگ کے لیے سب سے موزوں مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی ملک کے جنوبی تیل سے مالا مال خطوں سے قربت، اچھی بحری جگہ، بڑے آئل ٹینکرز کے لنگر انداز ہونے کے لیے گہرے پانی جیسی سہولیات ہیں۔
ایرانی تیل کا سب سے بڑا آف شور ابو زر آئل کمپلیکس خارگ سے 75 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے۔ خلیج فارس میں ایرانی تیل کی زیادہ تر پیداوار اسی آئل فیلڈ سے ہوتی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ابوزر آئل فیلڈ تین اہم آپریٹنگ پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے، ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 80 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ ابو زر آئل پروسیسنگ پلانٹ بھی جزیرہ خارگ میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جزیرہ خارگ ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔
ایرانی آئل ٹرمینلز کمپنی کے مطابق خارگ میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے 40 ٹینکس ہیں جہاں دو کروڑ بیرل سے زیادہ تیل رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے جنوب میں تکل کی دولت سے مالا مال علاقوں سے نکالا جانے والا خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنز کے ذریعے خارگ سٹوریج ٹینکوں میں داخل ہوتا ہے۔
دسمبر 2023 میں ایران کے آئل ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عباس غریبی نے جزیرہ خارگ پر خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 20 لاکھ بیرل اضافے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن جزیرہ خارگ میں محدود زمین ہے اور اس کا موسم اکثر طوفانی اور خراب رہتا ہے۔ اس لیے 2016 میں ایک کروڑ بیرل کی گنجائش کے ساتھ اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ یہ علاقہ صوبہ بوشہر سے 23 کلو میٹر دُور ہے۔
اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک نجی شعبے میں تیل کے ٹینکوں کا سب سے بڑا ذخیرہ بتایا جاتا ہے۔
جزیرے کے مشرق اور مغرب میں خارگ کے دو گھاٹ ہیں۔ سنہ 1955 میں، تیل کنسورشیم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد خارگ میں لوڈنگ ڈاکس اور خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا۔
خارگ میں خام تیل کا معیار جانچنے کے لیے ایک لیبارٹری بھی ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ ایرانی آئل ٹرمینلز آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیبارٹریز میں سے ایک ہے۔
خارگ پیٹرو کیمیکل کمپنی بھی اس جزیرے میں کام کرتی ہے جس کا مقصد تیل نکالنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کو جلنے سے روکنا اور اںھیں قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ کمپنی میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین، اور نیفتھا (پٹرول) بھی بناتی ہے۔
صرف آٹھ ہزار سے زائد آبادی والے خارگ میں اسلامی آزاد یونیورسٹی بھی ہے جو میرین سائنس اور آرٹس کی ایک شاخ ہے۔ اس یونیورسٹی میں مطالعہ کے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک پیٹرولیم اور سمندری مطالعہ بھی ہے۔
ایران عراق جنگ کے دوران ایران کی تیل کی 90 فیصد سے زیادہ برآمدات خارگ کے راستے ہوتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے اس چھوٹے سے جزیرے پر 2800 بار حملہ کیا۔

