اسلام آباد :پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائیو جی (5G) اسپیکٹرم کی آکشن کے پہلے مرحلے کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
اس تاریخی نیلامی کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے چیئرمین پی ٹی اے (PTA) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کے ہمراہ کیا۔ اس موقع پر پی ٹی اے نے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کو نیلامی کے لیے پیش کیا۔
اب جمعہ سے ملک کے تین ٹیلی کام آپریٹرز کی منتخب سائٹس پر فائیو جی سروسز دستیاب ہوں گی۔
600 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کا اعلان کیا گیا۔ اس میں سے 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت ہوا، جسے تین ٹیلی کام کمپنیاں، جاز، زونگ اور یو فون، نے حاصل کیا۔
تینوں ٹیلی کام آپریٹرز میں سے جاز نے 190 میگا ہرٹز، یو فون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا۔ اس سپیکٹرم کی مجموعی نیلامی 507 ملین (50.7 کروڑ) ڈالر میں ہوئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق جمعرات کو مختلف بینڈز کی پوزیشن کے لیے بولی لگائی جائے گی۔فائیو جی لائسنس کے اجرا کے بعد بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں تقریباً تین سے چھ ماہ کے اندر مکمل سروسز شروع کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے محدود سائٹس پر جمعہ سے سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے اسے پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں اب تک صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا، جو کہ آبادی اور طلب کے لحاظ سے بیحد کم تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی اصل وجہ اسپیکٹرم کی یہی کمی تھی، جس کی وجہ سے پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا تھا۔
شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ "فیلڈ مارشل” (SIFC کے تناظر میں) کی جانب سے بھی حکومت کو ہر مرحلے پر مکمل تکنیکی اور انتظامی مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور تیزی کے ساتھ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیلامی کے پیش نظر موبائل فون مینوفیکچررز کو ہدایت دی ہے کہ وہ فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز مارکیٹ میں فراہم کرنا شروع کریں، جس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے ہی موبائل فون لیزنگ پالیسی کا اعلان کر چکی ہے، جس میں اب فائیو جی سپورٹڈ فونز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
اس پالیسی کے تحت شہری آسان اقساط پر فائیو جی سپورٹڈ موبائل فون خرید سکیں گے۔ موبائل فون لیزنگ پالیسی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائیو جی فون استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔حکومتی مسودے کے مطابق موبائل فون کمپنیاں، بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اور موبائل آپریٹرز مل کر شہریوں کو یہ فون فراہم کریں گے، جس کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حتمی اعلان بعد میں حکومت کی جانب سے متوقع ہے۔
600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی شمولیت سے نہ صرف موبائل براڈ بینڈ کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوگا بلکہ مصنوعی ذہانت (AI)، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ اس نیلامی سے ملکی معیشت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

