واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام نے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سپاہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے وابستہ متعدد اعلیٰ حکام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر (تقریباً 1 کروڑ ڈالر) تک کے انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
امریکا کی ’ہٹ لسٹ‘ میں کون کون شامل ہے؟امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپلومیٹک سیکیورٹی سروس کی جانب سے جاری کردہ اشتہار میں ایران کی طاقتور ترین شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل اہم نام درج ذیل ہیں:
| نام | عہدہ / حیثیت |
| مجتبیٰ خامنہ ای | ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ |
| علی اصغر حجازی | سابق رہبرِ اعلیٰ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف |
| علی لاریجانی | اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار |
| یحییٰ رحیم صفوی | رہبرِ اعلیٰ کے سینئر فوجی مشیر |
| اسکندر مومنی | وزیرِ داخلہ |
| اسماعیل خطیب | وزیرِ انٹیلی جنس |
امریکی بینر میں نہ صرف نامور شخصیات بلکہ چار اہم عہدوں پر فائز افراد (جن کے نام واضح نہیں کیے گئے) کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں:
سیکرٹری سپریم ڈیفنس کونسل
رہبرِ اعلیٰ کے ملٹری آفس کے سربراہ
کمانڈر ان چیف (سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی)
رہبرِ اعلیٰ کے مشیر
امریکی حکام کے مطابق یہ انعامی رقم ان افراد کی دہشت گردی میں مبینہ شمولیت، امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی اور IRGC کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ عالمی مبصرین اس اقدام کو ایران کی نئی قیادت کو براہِ راست چیلنج کرنے اور تہران پر نفسیاتی و معاشی دباؤ بڑھانے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں

