Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”پٹرول بم “ توفیق بٹ کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:توفیق بٹ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے، اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہلکا پُھلکا اضافہ متوقع تھا پر یہ اُمید ہرگز نہیں تھی پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جائے گا، اس حالیہ اضافے کے بعد مسلط شُدہ ظالم حکمرانوں سے اپنی بھلائی کی کوئی توقع عوام کیسے کریں؟ یہ ’’معجزہ‘‘ اب شاید ہو ہی نہیں سکتا پاکستان کے مقدر میں اچھے حکمران لکھ دئیے جائیں، جو اپنے مفادات کے بجائے مُلک اور عوام کے مفاد کو اہمیت دیں، موجودہ حکمرانوں کی عوام سے نفرت اس لیے بھی بنتی ہے عوام نے بڑی تعداد میں اُنہیں ووٹ نہیں دئیے جس کے نتیجے میں وہ بغیر کسی سہارے کے حکومت بنا لیتے، سو جو اُنہیں اقتدار میں لے کر آئے آج کل وہ صرف اُن ہی کے مفادات کا تحفظ کرنے میں لگے ہیں، اپنے مفادات کے تحفظ اور عوام کے مفادات کے قتل عام کے لیے تقریباً سب حکمرانوں کی سوچ ملتی جُلتی ہے، میرا ایک دوست ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر وزیراعظم بنا تھا، اُس کے بعد ’’تبدیلی‘‘ یہ آئی وہ خود تبدیل ہو گیا، وہ ایک کرپٹ اور کریمینل سسٹم تبدیل کرنے آیا تھا، بجائے اس کے وہ اُس سسٹم کو تبدیل کرتا اُس سسٹم نے اُسے تبدیل کر کے اپنے جیسا بنا لیا، چودہ اگست دو ہزار اٹھارہ میں وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے چند روز پہلے اُس نے مجھے یاد کیا، اُس وقت سب سے زیادہ پریشانی اُسے تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کی بحالی کی تھی، میں نے عرض کیا ’’اس وقت جتنے لوگ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بنے ہیں اُن میں ایک بھی شاید ایسا نہیں ہو گا جو آسودہ حال نہ ہو، یہ سب کھاتے پیتے لوگ ہیں، بلکہ زیادہ تعدا اُن لوگوں کی ہے جو معاشی طور پر انتہائی مضبوط ہیں، چنانچہ مُلک کے موجودہ کمزور معاشی حالات کے پیش نظر آپ یہ اعلان فرما دیں جب تک ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوتی یا کم از کم دو برس تک میں سرکاری خزانے سے کوئی تنخواہ یا مراعات لُوں گا نہ ہی ہمارا کوئی وزیر یا ارکان اسمبلی تنخواہ اور مراعات لیں گے، جب آپ اپنے لیے اور اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کے لیے یہ فیصلہ فرما دیں گے مُلک و قوم کے مفاد میں کیے جانے والے آپ کے اس انتہائی احسن فیصلے کو دیکھتے ہوئے بادل نخواستہ سہی دوسری سیاسی جماعتیں بھی ایسا ہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گی، اس سے فوری طور پر معاشی بحالی یا مضبوطی تو شاید ممکن نہ ہو سکے مگر لوگوں میں یہ احساس ضرور بیدار ہو گا کہ اب جو حکمران آئے ہیں مُلک میں معاشی استحکام کے لیے وہ صرف عوام سے ہی قربانیاں نہیں مانگتے خود بھی دیتے ہیں‘‘۔ مجھے یقین تھا میری اس تجویز پر میرے دوست وزیراعظم میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے فوراً تسلیم فرما لیں گے مگر اُنہوں نے اسے فوراً رد کر دیا، وہ فرمانے لگے ’’ہمارے ارکان اسمبلی کرپشن کرنے نہیں آئے، اگر ہم اُن کی تنخواہیں اور مراعات بھی بند کر دیں گے یہ اُن کے ساتھ زیادتی ہو گی‘‘۔ بعد میں اُن کے بیشمار ارکان اسمبلی اتنے لو لیول کی کرپشن میں ملوث رہے خاکروبوں کی بھرتیوں تک کی رقمیں وصول کرتے رہے، خود خان صاحب پر جو الزامات لگے وہ الگ داستان ہے، ہمارے اکثر حکمران اندھا دُھند کرپشن کو بھی اپنی تنخواہ اور مراعات کا حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست یا حکمرانی سے کرپشن یا پروٹوکول وغیرہ نکال دئیے جائیں حکومت اور سیاست پر کوئی تُھوکنا بھی پسند نہیں کرے گا کہ اس سے اُس کی تُھوک ضائع ہو جائے گی، موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی فنکاریوں پر کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے، ایک طرف وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچ ڈالنے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف عوام کو تکلیف دینے کے ہر منصوبے کی وہ منظوری دے دیتے ہیں، جیسے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پورے پچپن روپے اضافے کی اُنہوں نے منظوری فرما دی، پھر یہ ’’فنکاری‘‘ دکھائی گئی، یہ جھوٹ گھڑا گیا کہ ’’متعلقہ محکمے نے تو ایک سو دس روپے بڑھانے کی سفارش کی تھی، وزیراعظم نے صرف پچپن روپے بڑھائے‘‘۔ پتہ نہیں یہ لوگوں کو اتنا پاگل یا بیوقوف کیوں سمجھتے ہیں؟ ایسی ڈرامہ بازی عوام پر مزید ظلم ہے، عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنے کپڑے تو وزیراعظم نے نہیں بیچے، البتہ عوام کے تن پر جو دو چار ’’ٹاکیاں‘‘ یا ’’لیڑے‘‘ وغیرہ رہ گئے تھے وہ بھی کھینچ لیے گئے ہیں، ان کے ’’لیلے چیلے و لیلیاں چیلیاں‘‘ اتنے ڈھیٹ اور بے شرم ہیں ایک چیلی اگلے روز فرما رہی تھی ’’ہم اگر متعلقہ محکمے کی سفارش کے مطابق پیٹرول کی قیمت ایک سو دس روپے بڑھا دیتے کسی نے ہمارا کیا بگاڑ لینا تھا؟‘‘، یہ بیان بظاہر افسوس ناک مگر حقیقت کے بہت قریب ہے، اُن کا واقعی کسی نے کیا بگاڑ لینا تھا؟، جو اُن کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں وہ اُن کا سب کچھ سنوارنے میں لگے ہیں اور یہ سیاہ سی کیسے کیسے ستم عوام پر ڈھا رہے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ ہوش رُبا اضافے سے کس کس کو فائدہ پہنچایا گیا؟ یہ راز سوشل میڈیا نے تار تار کر دیا ہے، ایک طرف اپنی عیاشیوں اور بدمعاشیوں کے لیے اربوں روپے کے جہاز خریدے جا رہے ہیں دوسری طرف عوام کو سائیکلوں سے بھی محروم کرنے کی منصوبہ بندی ہے، ایک وقت تھا سرکار یا حکمران عوام دُشمن کوئی فیصلہ کرتے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے، پہیہ جام ہڑتالیں ہوتیں، شٹر ڈاؤن ہوتے، اس عالیشان مزاحمت کے نتیجے میں سرکار یا حکمران اپنے عوام دُشمن فیصلے فوری طور پر واپس لینے پر مجبور ہو جاتے تھے، اب ہلکی پُھلکی مزاحمت صرف سوشل میڈیا پر ہوتی ہے جس سے حکمرانوں کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا، ایک وہ شہباز شریف تھے جب پہلی بار وزیراعلیٰ پنجاب بنے لاہور میں شدید طُوفان کے باعث ایک بہت بڑا درخت شاہرہ قائداعظم پر گر گیا جس سے پوری سڑک بلاک ہو گئی، شہباز شریف ساری رات اپنی نگرانی میں اُس درخت کو سڑک سے ہٹواتے رہے کہ صبح عوام کو سڑک بند ہونے سے پریشانی ہو گی، اب ایک وزیراعظم شہباز شریف ہیں عوام کی پے در پے اذیتوں سے جنہیں فرق ہی نہیں پڑتا، میں اکثر سوچتا ہوں ماضی اور حال میں اس طرح کے جتنے حکمران رہے شاید ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہیں، خاص طور پر ہمارے اس گناہ کی سزا کہ ہمارے ووٹوں پر جب بھی ڈاکہ پڑتا ہے ہم خاموش رہتے ہیں۔

    Related Posts

    پاک افغان سرحدپر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی تشکیل کی دراندازی کی کوشش ناکام

    پاکپتن میں ہولناک ٹریفک حادثہ، بس ٹریلر سے ٹکرا گئی، 15جاں بحق 33زخمی

    فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا

    مقبول خبریں

    پاک افغان سرحدپر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی تشکیل کی دراندازی کی کوشش ناکام

    پاکپتن میں ہولناک ٹریفک حادثہ، بس ٹریلر سے ٹکرا گئی، 15جاں بحق 33زخمی

    مڈ ٹرمز میں شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی جنگ: جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف محاذ کھول دیا

    فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا

    ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

    بلاگ

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.