لاہور:(ملک ظہیر)لاہور میں پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت عبدالکریم اور ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے مشترکہ طور پر کی۔
اجلاس میں صوبہ بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا مہم کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ لاہور سمیت تمام ڈویژنز کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، سی سی پی او لاہور، ایڈیشنل آئی جیز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ہدایت دی گئی کہ موجودہ سرحدی صورتحال اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر پولیس اور ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ رہیں۔ حکام نے افغانیوں سمیت تمام غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے فوری اور مؤثر انخلا کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
آئی جی پنجاب اور سیکرٹری داخلہ نے واضح کیا کہ غیر قانونی مقیم افراد کو پناہ، روزگار یا کاروباری سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہولڈنگ پوائنٹس پر منتقل کیے گئے افراد کی سکیورٹی کو بھی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ سیکرٹری داخلہ نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ ہولڈنگ پوائنٹس تک منتقلی کے لیے ٹرانسپورٹ، رہائش اور خوراک کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ مزید برآں، انخلا مہم میں سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس معلومات سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ آئی جی پنجاب نے غیر قانونی مقیم افراد کی میپنگ، سکیننگ اور سکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور مکمل شناختی چیکنگ یقینی بنانے پر زور دیا، جبکہ تمام ضلعی و ریجنل افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 11 ماہ کے دوران 32 ہزار 730 سے زائد غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے، جبکہ 346 افراد اس وقت ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔ ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 12 ہزار 356 مرد، 6 ہزار 673 خواتین اور 13 ہزار 700 بچے شامل ہیں۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز محمد علی نیکوکارا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ عمران احمر اور دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔

