لاہور:(رپورٹ اسد مرزا) ریجنل آفیسر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) آفتاب پھلروان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر اور "شوٹرازم” کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اپریل 2025 میں قائم ہونے والے سی سی ڈی (CCD) نے پولیس آرڈر میں 18-C کی ترمیم کے بعد جرائم کی بیخ کنی میں اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
فیصل بھٹی گینگ کا عبرتناک خاتمہ
اس موقع پرفیصل شفقت بھٹی کیخلاف مقدمات کی مدعیہ ارم نواز بھی موجود تھیں انہوں نخے سی سی ڈی حکام کے ہمراہ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے 9 مہینے میں 6 قتل ہوئے لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ جو لوگ اس کی بات پر یقین کرتے ہیں وہ آکر علاقے کے لوگوں سے پوچھ لی۔ وہ اسلحہ لے کر آئے اور کہا صلح کر لو نہیں تو جان سے جاؤ گے۔
آفتاب پھلروان نے حال ہی میں مارے جانے والے خطرناک اشتہاری مجرم فیصل شفقت بھٹی کی ہولناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ یہ شخص 1997 سے جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا تھا۔
سفاکی کی انتہا: سرگودھا کے رہائشی نواز نامی شخص نے محض 3 مرلے کے پلاٹ کے تنازع پر ایک ‘نظم’ لکھی، جس کے بدلے میں فیصل بھٹی نے نواز کے 12 سالہ بیٹے، بھائی، دو بھتیجوں اور خود نواز سمیت 6 افراد کو بے دردی سے قتل کروا دیا۔
فیصل بھٹی کا اثر و رسوخ اس قدر تھا کہ ایئرپورٹ پر اس کے استقبال کے لیے سینکڑوں افراد کا پروٹوکول موجود ہوتا تھا۔
سرگودھا میں اس کے کارندوں نے پولیس ٹیم پر حملہ کیا جس میں دو جوان شدید زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں فیصل بھٹی مارا گیا، جبکہ اس کے دو بیٹے اب بھی مفرور اور اشتہاری ہیں۔
ریجنل آفیسر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سی سی ڈی کی کارروائیوں کے بعد ہاؤس ڈکیتی میں 90 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ہاؤس رابری میں 85 فیصد اور قتل کی وارداتوں میں 34 فیصد کمی آئی ہے۔موٹر سائیکل چوری جو روزانہ 150 کے قریب تھی، اب محض 10 سے 15 تک رہ گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کا لاہور جرائم کی شرح کے لحاظ سے لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ شہر بن چکا ہے اور یہاں عدلیہ و قانون کی بالادستی قائم ہے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 100 کا حوالہ دیتے ہوئے آفتاب پھلروان نے کہا کہ اگر مجرم پولیس پر گولی چلائے گا تو ہمیں قانون جواب دینے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی رپورٹس کو متوازن بنانے کے لیے سی سی ڈی کا موقف بھی شامل کیا کریں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون سے ہی شہر کو امن کا گہوارہ بنایا گیا ہے اور میڈیا کے ساتھ کمیونیکیشن کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشنز کی شفافیت برقرار رہے۔

