گجرات: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سال 2026 نوجوانوں کا سال ہے اور وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک چٹان کی طرح کھڑی ہیں۔ گجرات میں "ہونہار سکالرشپ” اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اب پنجاب کا کوئی بھی بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے تقریب کو روایتی پروگرام کے بجائے ایک "جشن” قرار دیتے ہوئے کہا:”آج کی تقریب کے اصل سپر ہیرو میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ بچوں کو گارڈ آف آنر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست ان کی محنت کی قدر کرتی ہے۔”
انہوں نے حلفیہ کہا کہ تمام سکالرشپس اور لیپ ٹاپس 100 فیصد میرٹ پر دیے گئے ہیں اور کسی سے اس کی سیاسی وابستگی نہیں پوچھی گئی۔
وزیراعلیٰ نے مظفر گڑھ کے ایک طالب علم اور چار بہنوں کی کہانی سنائی جو ایک ہی لیپ ٹاپ پر باری باری کام کرتی تھیں، اور خوشی کا اظہار کیا کہ اب ان کی مشکل حل ہو گئی ہے۔
مریم نواز شریف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ”پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ، سکالرشپ اور پرواز کارڈ ہے، جبکہ کے پی کے کے معصوم بچوں کے ہاتھوں میں پیٹرول بم اور ہتھیار تھما دیے گئے ہیں۔ وہاں 13 سال سے ایک ہی حکومت ہے لیکن عوام اب بھی ‘ترقی’ نامی چڑیا کو ڈھونڈ رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے بچے گرین بس میں مفت سفر کر رہے ہیں جبکہ پڑوسی صوبے میں احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث ایمبولینسوں میں لوگ جان دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنی زندگی کے مشکل ایام کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی:
"سیاست کو دشمنی میں نہ بدلیں۔ ہم نے جیلیں کاٹیں، میری والدہ کے کینسر اور والد کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، لیکن ہم نے کبھی سیاسی مخالف کا کھانا یا اے سی بند کرنے کا نہیں سوچا۔”
انہوں نے کہا کہ جو بیمار ہے اس کی صحت کے لیے دعا کرنی چاہیے، جھوٹ اور فتنے کو سیاست سے باہر پھینک دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 72 سالہ والد جیل میں بیمار ہوگئے، ہارٹ اٹیک ہوا، ان کااور ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ میں والد کے ساتھ جیل میں تھی، والدہ مرحومہ کو کینسر ہوگیا۔ میری والدہ کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، کہتے تھے وہ بیمار ہیں نہیں۔ میری والدہ لندن کے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھیں، کچھ لوگ ڈاکٹر کی یونیفارم پہن کر اندر داخل ہوگئے۔ یہاں انسان کو بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ والدہ کا انتقال ہوا تو والد نے سیل میں آکر بتایا کہ آپ کی والدہ اللہ کے پاس چلی گئیں ہیں۔ حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ نواز شریف صاحب نے شہباز شریف صاحب اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ جیل میں اس کا کھانا یا ٹی وی بند کریں۔ نواز شریف صاحب نے کہا کہ ایک اے سی ہے تو اسے دو اے سی دے دو۔ انہوں نے اپنے دور ابتلا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سیاست میں نہ ہونے کے باوجود پہلی خاتون کے طور نیب جیل میں بند کیا گیا۔ ان کے پاس لیڈیز جیل نہیں تھی، وہ کہتا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کو دیکھا تو لمبی لسٹ تھی۔ آپ اختلاف کرسکتے بیماریوں کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ سیاست کو دشمنی میں بدلنا غلط ہے۔وقت گھوم کر واپس آتا ہے، سیاسی دشمن کو بھی بد دعا نہ دینا۔ والدہ کی وفات پر میرے والد کا مغموم چہرے کامذاق اڑاتے رہے۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ مجھے اکثر وہ آیت یاد آتی ہےکہ” تمہارارب بھولنے والا نہیں“۔
نوجوانوں کیلئے نئے منصوبے
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت نوجوانوں کو صرف ڈگریاں ہی نہیں بلکہ:
پرواز کارڈ: ٹیکنیکل ٹریننگ کے بعد بیرون ملک روزگار کے لیے معاونت۔
کاروباری قرضے: نوجوان نسل کو کھیتی باڑی اور نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی امداد دے رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ طلباء کے لیے کالج اور یونیورسٹی جانے کے لیے گرین بس سروس بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے شرکاء کو وطن کی محبت کا درس دیتے ہوئے کہا کہ املاک کو آگ لگانا یا دنگا فساد کرنا ترقی نہیں، بلکہ پاک دھرتی کے ذرے ذرے کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے

