تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب پولیس میں ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے تبادلوں کا عمل اچانک روک دیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق نئے آئی جی عبدالکریم روایتی پوسٹنگ کلچر توڑتے ہوئے ایک مضبوط، جوابدہ اور نتائج دینے والی کمانڈ ٹیم تشکیل دے رہے ہیں، جس کے بعد سنٹرل پولیس آفس سے لے کر صوبہ بھر میں آر پی اوز اور سی پی اوز کے مرحلہ وار تبادلوں کا نیا باب کھلے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سنٹرل پولیس آفس کے چند طاقتور افسران ممکنہ تبدیلیوں سے آگاہ بھی ہیں اور بے چین بھی کیونکہ اس بار ذاتی تعلقات نہیں، کارکردگی فیصلہ کرے گی۔ اسی طرح تین آر پی اوز کی تبدیلی بھی متوقع ہے، مگر فیصلے آخری لمحے تک صیغۂ راز میں رکھے جائیں گے۔ طویل عرصے سے ایک ہی اضلاع میں جاری ڈی پی اوز کے بجائے نوجوان، فیلڈ میں متحرک افسران کی تعیناتی زیرِ غور ہے۔
یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کی براہِ راست نگرانی خود وزیر اعلیٰ کر رہی ہیں۔ آئی جی نے واضح کر دیا ہے کہ کرائم کنٹرول کی بنیاد کور پولیسنگ، سخت سپرویژن اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہوگا۔
شفافیت کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، جبکہ تھانوں میں شہریوں کی آمد اور تفتیش کے مراحل کو مکمل طور پر ریکارڈ پر لایا جا رہا ہے۔ KPIs پر مبنی اسکور کارڈز سے ہر افسر کی کارکردگی ناپی جائے گی جس سے سفارش کا دور ختم ہو گا۔ ذرائع کے مطابق تبادلوں پر یہ بریک محض وقفہ نہیں بلکہ ایک بڑے اصلاحاتی ری سیٹ کی تمہید ہے


