اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو جواز بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں 7 روپے 32 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد ایندھن کی نئی قیمتیں درج ذیل ہیں:
| مصنوعات | پرانی قیمت (فی لیٹر) | نئی قیمت (فی لیٹر) | اضافہ |
| پیٹرول | 253.17 روپے | 258.17 روپے | 5.00 روپے |
| ہائی سپیڈ ڈیزل | 268.38 روپے | 275.70 روپے | 7.32 روپے |
قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہوتے ہی عوامی حلقوں میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے محض سواری کا خرچ ہی نہیں بڑھتا بلکہ زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو جاتی ہے۔
رکشہ ڈرائیوروں اور ڈیلیوری بوائز کا کہنا ہے کہ ان کی بچت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی، اب بچوں کا پیٹ پالنا ناممکن ہو گیا ہے۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے ریلیف فراہم کیا جائے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا سب سے بڑا اثر مال برداری (Freight) پر پڑتا ہے۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتے ہی ملک بھر میں مال برداری کے کرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرکوں اور ٹریلرز کے کرائے بڑھتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر سبزیوں، دالوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور پہلے ہی سے مہنگی اشیائے ضروریہ اب اور مہنگی ہوجائیں گی اور عوام روزہ افطار کرنے اور سحری سے بھی قاصر رہیں گے۔
قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔

