واشنگٹن :عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتے کو کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہیے۔
آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی ’حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔‘
پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا جب کہ صنعت پر دباؤ کم ہو گا، کیوں کہ حکومت سات ارب ڈالر کی ’توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی‘ (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے جب کہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔
پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے جو پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے مزید کہا کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔
بجلی کی قیمتوں کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہیں پڑنا چاہئیے، آئی ایم ایف

