ممبئی/حیدرآباد: بھارت کے مایہ ناز اداکار نصیر الدین شاہ ایک بار پھر مودی حکومت اور ہندوتوا نواز میڈیا کے نشانے پر ہیں۔
حالیہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے یکم فروری کو منعقد ہونے والے "جشنِ اردو” پروگرام سے نصیر الدین شاہ کو آخری لمحات میں بغیر وجہ بتائے "ڈس انوائٹ” (دعوت نامہ منسوخ) کر دیا۔
ٹاپ اسٹار اور ایوارڈیافتہ اداکار نے اس توہین آمیز روئیے پر خاموش رہنے کے بجائے ایک اخبار میں مضمون کے ذریعے اپنا موقف بیان کیا جس کے بعد بھارتی میڈیا نے ان کے خلاف ہراسانی کی مہم شروع کر دی ہے۔
نصیر الدین شاہ نے اپنے کالم میں انکشاف کیا کہ انہیں 31 جنوری کی رات دیر گئے مطلع کیا گیا کہ وہ پروگرام میں نہ آئیں، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ حد تو یہ ہوئی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پروگرام میں موجود طلبہ اور سامعین سے جھوٹ بولا کہ نصیر الدین شاہ نے خود آنے سے انکار کر دیا ہے۔ شاہ نے اسے "زخموں پر نمک چھڑکنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے پاس یہ سچ بولنے کی ہمت نہیں تھی کہ انہیں ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے روکا گیا ہے۔
"آرولین انڈیا” اور مودی پر تنقید اپنے مضمون میں نصیر الدین شاہ نے بھارت کی موجودہ صورتحال کا موازنہ جارج آرول کے ناول "1984” سے کیا ہے۔ انہوں نے لکھا:
"یہ وہ ملک نہیں ہے جس میں میں بڑا ہوا اور جس سے محبت کرنا سیکھی۔ یہاں ‘تھوٹ پولیس’ (سوچ پر پہرہ دینے والے) اور ‘نگرانی’ کا راج ہے۔ ‘دو منٹ کی نفرت’ اب ’24 گھنٹے کی نفرت’ میں بدل چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود ساختہ "وشوا گرو” (مودی) کی تعریف نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی نرگسیت اور گزشتہ دس سالوں کی کارکردگی سے وہ بالکل متاثر نہیں ہوئے۔
اس مضمون کے شائع ہوتے ہی مودی نواز میڈیا نے نصیر الدین شاہ کو ہراسانی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ حیدرآباد ایئرپورٹ پر صحافیوں نے انہیں گھیر لیا اور اشتعال انگیز سوالات کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ جب اداکار نے بات کرنے سے انکار کیا تو ان پر "بدتمیزی” کے الزامات لگائے گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے مسلم تشخص کو بنیاد بنا کر انہیں "ملک دشمن” ثابت کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
عالمی تعلیمی اور ادبی حلقوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے ممبئی یونیورسٹی کے اس اقدام کو آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔


