لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنجاب کے سب سے بڑے فلیگ شپ ہاؤسنگ پراجیکٹ "اپنی چھت، اپنا گھر” اور "اپنی چھت، محفوظ چھت” سکیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران منصوبے کی غیر معمولی عوامی پذیرائی اور عالمی اداروں کی جانب سے پذیرائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مقررہ اہداف کو بلا تاخیر پورا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام کی زبردست طلب کو مدِنظر رکھتے ہوئے "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کے لیے نئی درخواستیں طلب کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔
بریفنگ کے دوران پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق اس ہاؤسنگ سکیم نے عوام میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ اب تک "اپنی چھت، اپنا گھر” پورٹل پر 17 لاکھ سے زائد افراد خود کو رجسٹر کروا چکے ہیں۔سکیم کے تحت 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد شہریوں کے لیے آسان شرائط پر بلا سود قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔صوبے بھر میں 1 لاکھ 28 ہزار 718 گھروں کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 62 ہزار 600 گھر اس وقت تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔ شفافیت کے معیار پر پورا اترنے والے 1 لاکھ 71 ہزار 597 مستحق افراد کو قرضے کی دوسری قسط بھی منتقل کر دی گئی ہے۔
مالیاتی انضباط اور اقساط کی واپسی کے حوالے سے پنجاب حکومت نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سکیم کے تحت قرضوں کی واپسی کی شرح 97.6 فیصد رہی ہے، جس کے تحت اب تک 22.29 ارب روپے کی اقساط کامیابی سے واپس وصول ہو چکی ہیں۔ یہ شرح عوامی اعتماد اور منصوبے کی شفافیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔علاوہ ازیں، "اپنی چھت، محفوظ چھت” سکیم کے تحت بھی درخواستیں وصول کرنے کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے:اس سکیم کے تحت 3 ہزار 055 درخواست دہندگان کو 1 ارب 21 کروڑ 60 لاکھ روپے کے لون فراہم کیے جا چکے ہیں۔اس رقم سے اب تک 532 گھروں کی بنیاد ساخت، مرمت اور توسیع کا کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ جن گھروں پر کام جاری ہے ان کی تعمیراتی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور نئے فیز کے لیے شفاف طریقے سے جلد از جلد درخواستوں کی وصولی کا آغاز کیا جائے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکا نے ایران کے جزیرے قشم پر حملہ کیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ رپورٹ جزیرے پر متعدد دھماکوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ حملہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکا کی جانب سے کیے جانے والے محدود حملوں کے سلسلے کی تازہ کارروائی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے محدود پیمانے پر کیے گئے اور انہیں دانستہ طور پر خفیہ رکھا گیا تاکہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے کسی ارادے کا تاثر نہ ملے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
اس سے قبل پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ظاہر کی اور کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔

