سری نگر:
مقبوضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے ممتاز رہنما اور سری نگر سے لوک سبھا کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی اور پارلیمانی رکنیت سے باضابطہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ آغا روح اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ دھوکے اور سیاسی وعدہ خلافی کے ساتھ مزید سفر جاری نہیں رکھ سکتے۔
آغا روح اللہ نے اپنے استعفیٰ کی بنیادی وجہ پارٹی قیادت کی طرف سے انتخابی وعدوں سے انحراف کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے آرٹیکل 370 اور 35-A کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جموں و کشمیر کے خصوصی حقوق کے تحفظ کے نام پر عوام سے ووٹ لیے اور اقتدار حاصل کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد قیادت اپنے مؤقف پر قائم نہیں رہی اور ان اہم عوامی مطالبات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر رہ کر اس غلط رویے کو درست کرنا اب ممکن نہیں رہا، اور وہ عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر دھوکہ دہی کا حصہ بننے کے بجائے اپنی نشست اور پارٹی دونوں کو چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
آغا روح اللہ اور پارٹی قیادت کے درمیان کشیدگی پچھلے کچھ عرصے سے جاری تھی، جو خاص طور پر جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی اور آئینی حقوق کے معاملے پر کھل کر سامنے آئی۔ مبصرین کے مطابق آغا روح اللہ کا یہ قدم خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور حکمران جماعت کے اندرونی سیاسی حرکیات پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

