ویب ڈیسک: اردن نے جنوبی شام میں ایک بڑی اور فیصلہ کن عسکری کارروائی کرتے ہوئے ان شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو زمین بوس کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو حال ہی میں اردن کے شہر کرک (Karak) میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں براہ راست ملوث تھے۔ اردنی عسکری ذرائع کے مطابق، اس جوابی کارروائی کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک کا خاتمہ تھا جس نے پُر امن عبادت گاہ کو خون میں نہلایا تھا۔
دوسری جانب، شامی حکام نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں (بشمول خواتین اور بچوں) کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی اور انٹیلی جنس تعاون کے حوالے سے ہنگامی رابطے شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے کشیدہ واقعات سے بچا جا سکے۔

