منڈی بہاؤالدین: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منڈی بہاؤالدین میں یونیورسٹی آف رسول کے دورے کے موقع پر لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پنجاب میں اب سفارش اور پرچی کلچر کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور ہر سرکاری اسکیم کا تالا صرف میرٹ کی چابی سے کھلتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد دی اور اپنے احترام کے طور پر تقریب کے تمام شرکاء کو کھڑے ہو کر والدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر انہوں نے منڈی بہاؤالدین کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رسول میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیچنگ اسپتال قائم کیا جائے گا جبکہ رسول میڈیکل کالج میں جنوری 2027ء سے داخلوں کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید خوشخبری سنائی کہ 5 نومبر سے طلبا و طالبات کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی شروع کر دی جائے گی جس میں لڑکیوں کے لیے پنک اور لڑکوں کے لیے بلیک ای بائیکس شامل ہیں تاکہ انہیں آمد و رفت کے لیے کسی کا محتاج نہ رہنا پڑے۔اپنے جذباتی اور جرات مندانہ خطاب کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ عوام کی سلامتی اور انصاف کی فراہمی کے لیے اگر انہیں دوبارہ جیل بھی جانا پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کریں گی۔ انہوں نے جرائم پیشہ اور معزز بن کر غریبوں کا استحصال کرنے والے عناصر کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
اگر کسی بچی یا بچے کے ساتھ کوئی ظلم ہو تو خاموش نہ رہیں، رپورٹ کریں۔ مریم نواز، پنجاب پولیس اور حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ میرے لیے کسی غریب کی عزتِ نفس پر سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، پنجاب میں امیر غریب اور سیاسی غیر سیاسی سب برابر ہیں۔ خواتین، بچوں اور شہریوں کی جان، مال اور عزت پر حملہ کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ مجرموں کو ایسی سزا ملنی چاہیے کہ وہ دوبارہ جرم کرنے سے پہلے انجام کے بارے میں سوچیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
— PMLN (@pmln_org) October 27, 2026
پٹرول پمپ ملازم اور سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے امیر زادوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غریب اور مظلوم پر ہاتھ اٹھانے والے ظالم کو سزا ملنی چاہیے اور اگر مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے انہیں چیف جسٹس آف پاکستان یا پنجاب کی خاتون چیف جسٹس سے بھی ملنا پڑا تو وہ ضرور ملیں گی۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں اب ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور ریپ یا تشدد کے ملزموں کو دو گھنٹے کے اندر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی آف رسول میں اربوں روپے کی لاگت سے سوشل سائنسز، لائف سائنسز اور بزنس مینجمنٹ کے نئے شعبہ جات کے قیام کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جب انہوں نے حلف اٹھایا تھا تو یہاں صرف 149 بچے زیرِ تعلیم تھے جبکہ آج ان کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار ہو چکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی تقدیر ہیں اور انہیں اپنے ہاتھ میں پاکستان کا پرچم تھامے رکھنا ہے، کسی کی اکساہٹ پر جلاؤ گھیراؤ، احتجاج یا ڈنڈے اٹھانے کی سیاست کا حصہ نہیں بننا کیونکہ ایک ماں اپنے بچوں کے ہاتھ میں کیلوں والا ڈنڈا نہیں بلکہ لیپ ٹاپ اور کتابیں دیتی ہے۔ مریم نواز نے دہرایا کہ لیپ ٹاپ، سکالرشپ، ای بائیکس اور ‘اپنی چھت، اپنا گھر’ اسکیم کے تحت دیے جانے والے مکانات دراصل عوام کا اپنا پیسہ ہیں جو انہی کی فلاح پر خرچ ہو کر ان تک پہنچ رہے ہیں۔

