ہنگورجا (رپورٹ: فیاض محسن سولنگی)
ہنگورجا ہائر سیکنڈری اسکول میں 27 اکتوبر ‘یومِ سیاہ کشمیر’ کے حوالے سے صبح کی اسمبلی کے دوران ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسکول کے پرنسپل منظور علی گلال، ہیڈ ماسٹر استاد محمد صیفل سولنگی، دیگر اساتذہ، طلبہ اور طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرنا اور نئی نسل کو اس تاریخی دن کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھاتقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ و طالبات نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ، کشمیری عوام کی لازوال جدوجہد، ان کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے شاندار تقاریر پیش کیں۔ طلبہ نے خوبصورت انداز میں ٹیبلو بھی پیش کیا جس کے ذریعے کشمیری عوام کو درپیش بھارتی مظالم، ناانصافیوں اور ان کی آزادی کی پرجوش خواہش کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر سے یکجہتی کے پیغامات درج تھے۔ طلبہ نے عالمی برادری سے شدید مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرے۔اس موقع پر اسکول کے پرنسپل منظور علی گلال اور ہیڈ ماسٹر استاد محمد صیفل سولنگی سمیت دیگر اساتذہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے 27 اکتوبر کی تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک سیاہ اور دردناک دن ہے، جسے ہر سال ‘یومِ سیاہ کشمیر’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرنا، ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔
تقریب سے خطاب کے دوران طلبہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی قربرانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ایسی تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد طلبہ میں قومی شعور، حب الوطنی، انسانی حقوق کے احترام اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔
تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔


