لاہور/اسلام آباد: ڈیجیٹل دور میں جہاں انٹرنیٹ نے بچوں کی تعلیم اور تفریح کے نئے در وا کیے ہیں، وہیں اس کے تاریک پہلو نے والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن گیمنگ گروپس میں ایسے خطرناک عناصر سرگرم ہو چکے ہیں جو معصوم بچوں اور نو عمر نوجوانوں کو ہدف بنا کر انہیں تشدد، خودکشی اور انتہائی خطرناک چیلنجز کی طرف راغب کر رہے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق، یہ آن لائن گروہ مختلف فریب کار ہتھکنڈوں، سنسنی خیز گیمز اور خفیہ چیٹ گروپس کے ذریعے بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ شروع میں بچوں کو عام کھیلوں یا دلچسپ ٹاسکس میں الجھایا جاتا ہے، اور آہستہ آہستہ دباؤ یا بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں جسمانی نقصان پہنچانے یا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔والدین اپنے بچوں کے ڈیجیٹل استعمال پر کڑی نظر رکھیں اور دیکھیں کہ وہ کون سی گیمز کھیل رہے ہیں اور کن آن لائن لوگوں سے رابطے میں ہیں۔ اگر بچہ اچانک گُم صم رہنے لگے، رات دیر تک موبائل کا استعمال کرے، چڑچڑاپن بڑھ جائے یا جسم پر کسی زخم کے نشان ظاہر ہوں تو فوراً اس کی وجہ جانیں۔کھلی گفتگو (Open Communication): بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول پیدا کریں تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار یا مشکوک آن لائن واقعے یا دھمکی کے بارے میں بلا جھجھک اپنے والدین کو بتا سکیں۔موبائل اور انٹرنیٹ پر سیکیورٹی فلٹرز اور پیرنٹل کنٹرول ایپ کا استعمال کریں تاکہ نامناسب مواد اور لنکس تک رسائی روکی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ نہ صرف والدین بلکہ تعلیمی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری نئی نسل کو اس ڈیجیٹل دلدل سے محفوظ رکھا جا سکے۔

