عام طور پر روزمرہ زندگی میں جن غذاؤں کو صحت کے لیے انتہائی مفید اور ’سپر فوڈ‘ مانا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند ہوں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق، گردے کے امراضِ دائمی (CKD) میں مبتلا افراد کے لیے یہ نام نہاد سپر فوڈز بعض اوقات شدید نقصان دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب گردے خون سے اضافی پوٹاشیم، فاسفورس اور دیگر زہریلے مادوں کو خارج کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، اس لیے درج ذیل اشیاء کا استعمال یا تو بالکل بند کر دینا چاہیے یا ماہرِ غذائیت کے مشورے سے انتہائی محدود کرنا چاہیے:
-
ناریل کا پانی: اگرچہ اسے قدرتی اور توانائی بخش مشروب سمجھا جاتا ہے، لیکن اس میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو گردے کے مریضوں کے لیے خطرناک ہے۔
-
پوٹاشیم سے بھرپور پھل اور سبزیاں: کیلے، کینو، آڑو کے ساتھ ساتھ پالک اور دیگر پتوں والی سبزیوں میں پوٹاشیم اور آکسیلیٹس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جو دل کی دھڑکن اور گردوں پر براہِ راست برا اثر ڈالتی ہے۔
-
دالیں، چنے اور لوبیا: نباتاتی پروٹین کے یہ ذرائع اگرچہ صحت مند افراد کے لیے اچھے ہیں، لیکن ان میں پوٹاشیم اور فاسفورس پایا جاتا ہے جو گردوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔
-
دودھ، دہی اور پنیر: ڈیری مصنوعات سے اگرچہ کیلشیم ملتا ہے، لیکن ان میں موجود فاسفورس ہڈیوں اور خون کے توازن کو خراب کر سکتا ہے۔
-
خشک میوہ جات اور بیج: بادام، کاجو، مونگ پھلی اور بیجوں میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی کثرت ہوتی ہے، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔
-
ثابت اور موٹے اناج: سفید چاول کے مقابلے میں براؤن رائس، باجرہ، جوار اور گندم جیسے ثابت اناج میں فاسفورس زیادہ ہوتا ہے، بالخصوص جدید مراحل کے مریضوں کے لیے یہ احتیاط طلب ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ گردے کے مریض کسی بھی قسم کی خوراک میں تبدیلی یا نئے سپلیمنٹس کے استعمال سے پہلے اپنے معالج یا ماہرِ غذائیت سے لازمی رجوع کریں۔

