انسانی جسم میں گردے قدرت کا ایک ایسا شاہکار اور فلٹریشن پلانٹ ہیں جو خون کو صاف کرنے، زہریلے مادوں، اضافی پانی اور غلاظت کو جسم سے باہر نکالنے کا اہم فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن طبی ماہرین گردے کے امراض کو "خاموش قاتل” (Silent Killer) کیوں کہتے ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گردے کی بیماریاں ابتدائی مراحل میں کوئی نمایاں یا تکلیف دہ علامات ظاہر نہیں کرتیں، اور جب تک مریض کو مرض کی شدت کا احساس ہوتا ہے، تب تک گردے کافی حد تک ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق جب گردے اپنا فعل درست طریقے سے انجام دینا چھوڑ دیتے ہیں، تو اس کا اثر صرف گردوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کا پورا جسم اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ گردے کا دائمی مرض پورے جسم پر کس طرح تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے:۱۔ نظامِ خون اور شدید خون کی کمی (Anemia)صحت مند گردے ایک خاص ہارمون (Erythropoietin) بناتے ہیں، جو ہڈیوں کے گودے کو سرخ خون کے خلیات (Red Blood Cells) پیدا کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ گردے خراب ہونے پر اس ہارمون کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو خون کی دائمی کمی (انیمیا)، شدید کمزوری اور ہر وقت تھکن کا سامنا رہتا ہے۔گردے جسم میں نمک اور پانی کے توازن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ گردوں کی خرابی کی وجہ سے جب جسم میں اضافی سیال اور سوڈیم رک جاتا ہے، تو خون کی شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ہائی بلڈ پریشر آگے چل کر دل کے دورے اور فالج جیسے بڑے خطرات کو جنم دیتا ہے۔صحت مند گردے وٹامن ڈی کو ایسی فعال شکل میں بدلتے ہیں جو جسم میں کیلشیم جذب کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ گردوں کی خرابی سے خون میں کیلشیم اور فاسفورس کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور معمولی چوٹ سے بھی ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔گردے کے دائمی مریضوں میں امراضِ قلب کا خطرہ عام افراد کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ خون میں زہریلے مادوں (جیسے یوریا اور کریٹینائن) کا جمع ہونا اور بلند فشارِ خون براہِ راست دل کے پٹھوں کو کمزور کرتے ہیں۔جب گردے خون سے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو وہ زہریلے مادے دماغ تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مریض کو ذہنی الجھن، چڑچڑاپن، یادداشت میں کمی اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہم علامات جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے:
-
پاؤں، ، ٹانگوں اور چہرے پر غیر معمولی سوجن۔
-
پیشاب کی مقدار یا عادت میں تبدیلی (خصوصاً رات کو بار بار پیشاب آنا یا پیشاب میں جھاگ بننا)۔
-
ہر وقت طاری رہنے والی شدید تھکن اور غنودگی۔
-
متلی، قے اور بھوک میں کمی۔
-
جلد پر مسلسل خارش اور خشکی کا رہنا۔
ماہرینِ صحت مشورہ دیتے ہیں کہ سال میں کم از کم ایک بار اپنے بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کے بنیادی ٹیسٹس (Creatinine اور eGFR) ضرور کروائیں۔ اس کے علاوہ پانی کا استعمال معتدل رکھیں، کسی بھی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر پین کلرز (Painkillers) کھانے سے گریز کریں اور اپنی خوراک میں نمک اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کم سے کم کریں۔

