پیرس (نیوز ڈیسک)فرانس میں جاری حکومت مخالف مظاہروں نے انتہائی پرتشدد صورتحال اختیار کر لی ہے۔ فرانس کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان کے مطابق ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک 272 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
🚨🇦🇱🇫🇷 Easy to confuse with Paris, but this is ALBANIA right now
It’s the biggest unrest the country has seen in years, and it’s the same motto as in France 🤯
Writer: Lucas
https://t.co/S7TE6OnxzX— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 17, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں سڑکیں میدانِ جنگ بنی ہوئی ہیں۔ مشرقی شہر لیون میں تقریباً 20 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہیں، اتنی ہی تعداد میں مظاہرین نانت میں بھی موجود ہیں، جبکہ شہر رین میں مظاہرین کی تعداد تقریباً 10 ہزار بتائی گئی ہے۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان احتجاجی مارچوں میں نام نہاد ’بلیک بلاک‘ (Black Bloc) گروہ بھی شامل ہو چکا ہے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں انتہائی بائیں بازو (Far-Left) سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔
متعدد مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔کاروباری مراکز میں لوٹ مار اور لوٹ مار کی کوششوں کے متعدد واقعات پیش آئے۔سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور شدید توڑ پھوڑ کی گئی۔
دوسری جانب فرانس کے مشرقی شہر لیون میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب شہر کے مرکزی سیاحتی دفتر (Tourist Office) میں آگ بھڑک اٹھی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مظاہرین نے عمارت کو آگ لگادی جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر اور باہر شدید شعلے بھڑک اٹھے۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھ رہے ہیں جبکہ عمارت کی کئی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ چکے ہیں۔
حالات پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا بنیادی مقصد پرتشدد گروہوں کو قابو میں رکھنا، اہم سرکاری عمارتوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنانا، اور مزید لوٹ مار کے واقعات کو سختی سے روکنا ہے۔ حکام نے وارننگ دی ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

